پشاور ( مانند نیوز)ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستا ن خیبر پختونخوا کے زیرا ہتمام خواتین کیخلاف گھریلو تشدد ٗ روک تھام اور تحفظ ایکٹ 2021 پر عمل درآمد کے حوالے سے پختونخوا بار کونسل میں ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کیاگیا جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں ٗوکلاء ٗصحافی ٗبلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے ریجنل کوارڈی نیٹر شاہد محمود نے پروگرام کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان خیبر پختونخوا کے چیئرمین اکبر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان 1986 ء سے انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم عمل ہے خواتین کے حوالے سے ہمارے معاشرے میں مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے انسانی حقوق کی تنظیم خواتین پر گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہونیوالی خلاف ورزیوں کے خلاف موثر آواز اٹھارہا ہے اور اس حوالے سے عوام میں آگاہی مہم چلائی جارہی ہے پروگرام کے ریسورس پرسن قمر نسیم نے خواتین کیخلاف گھریلو تشدد ٗ تحفظ ایکٹ 2021 پر عمل درآمد کے حوالے سیپریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بے شمار قوانین بنائے گئے ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ ان پر عمل درآمد کا ہے گھریلو تشدد کے حوالے سے 2021 ء میں قانون تو بن گیا ہے لیکن ابھی تک ان پر عمل درآمد کے حوالے سے رولز آف بزنس نہیں بنائے گئے ہیں سول سوسائٹی ایک مسئلے کے حوالے سے تو قانون بنانے کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھاتی ہے لیکن جب بات عمل درآمد کی آتی ہے تو وہاں پر سول سوسائٹی کی طرف سے کسی قسم کی آواز نہیں اٹھائی جاتی ہیقوانین تب موثر ہوںگے جب اس پر عمل درآمد ہو جب ٹیکس اور دیگر حکومتی دلچسپی کی بات ہوتو ان قوانین پر فوری عمل درآمد کیا جاتا ہے لیکن جہاں پر انسانی حقوق اور عوام سے تعلق رکھنے والے قوانین کی بات کی جائے تو وہ وہاں پر حکومت خاموش رہتی ہے اور ان قوانین پر عمل درآمد کا نفاذ سرے ہوتا ہی نہیں انہوںنے کہا کہ گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کو میڈیکو لیگل سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکل کا سامنا رہتا ہے اکثر خواتین کو میڈیکل رپورٹ بروقت نہ بننے پر آگے جاکر قانونی پیچدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہیقوانین تو بن جاتے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ عوام میں قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کے حوالے سے آگہی کی کمی بھی ہے انہوں نے کہا کہ انتہائی اہم ہے کہ گھریلو تشدد کے قانون کے رولز آف بزنس جلد سے جلد بنائے جائیں تاکہ متعلقہ اداروں کو ان کے کردار سے متعلق نہ صرف آگہی مل سکے بلکہ انہیں درکار تکنیکی اور مالی وسائل کے فراہم کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جا سکے۔اس کے علاوہ ہاٹ لائن فون سروسز کا بھی آغاز کیا گیا ہے افسوس کی بات ہیصرف پشاور اور اس کے اطراف کے کچھ بڑے شہروں میں کسی حد کچھ سہولیات موجود ہیں لیکن اکثریتی دیہی علاقوں اور خصوصی طور پر ضم اضلاع میں اس حوالے سے سہولیات کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اکثریتی خواتین معاشی طور پر خاندانوں اور خاندان کے مردوں پر انحصار کرتی ہیں، لہذا تھانوں اور کورٹ، کچہری کے اخراجات ان خواتین کے بس سے باہر ہوتے ہیں گھریلو تشدد کے قانون کی سب سے بڑی حامی یہ ہے کہ یہ صرف خواتین کیحوالے سے تشدد کے مختلف پہلوئوں کو کور کرتا ہے جبکہ اس قانون کی سب سے بڑی حامی یہ ہے کہ سیڈو کے گائیڈ لائن کو فالو نہیں کیاگیا عالمی اور سول سوسائٹی کے دبائو کی وجہ سے مختلف اوقات میں قوانین بنائے گئے ہیں اس وقت ضرورت قوانین بنانے کی نہیں بلکہ موجودہ قوانین پر عمل درآمد کی ہیاسی طرح بچپن کی شادی کے حوالے سے بھی قوانین موجود ہیں لیکن کہیں پر عمل درآمد نظر نہیں آرہا ہے گھریلوتشدد کے حوالے سے قانون بننے کے باوجود اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ سٹیٹس آف وویمن کمیٹیز نہیں بنائی گئی ہے اس وقت معاشرے میں سب سے بڑ امسئلہ یہ ہے کہ جن کے لئے قوانین بنائے جاتے ہیں ا نہیں سرے سے قوانین کے بارے میں آگاہی ہی حاصل نہیں گھریلو تشدد کے حوالے سے قانون کی معاشرے میں آگاہی و ترویج کیلئے حکومت نے کسی سطح پر بھی کام نہیں کیا ہے شلٹر ہومز کے حوالے سے کسی قسم کا قانون نہیں بنا انہوںنے کہا کہ گھریلو تشدد ٗ خواتین اور چائلڈ میرج کے حوالے سے جتنے بھی قوانین بنے ہیں اس حوالے سے معاشرے میں اور خاص کر خواتین میں آگاہی مہم چلانی چاہیے اور خواتین کو خو د آگے آنا پڑیگا اگر اس قانون میں کسی قسم کی کمی یا حامی ہو تو ہیومن رائٹس کمیشن اور سول سوسائٹی کو پریس کانفرنسز ٗآگاہی مہمات اور دیگر ذرائع کے ذریعے اسکی خوب سرجری کرنی چاہیے تاکہ ان قوانین کو مزید بہتر بنایا جاسکے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 29 لاکھ لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اسکول سے باہر لڑکیوں میں سے75فیصد کا تعلق ضم شدہ قبائلی اضلاع سے ہے خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 47 لاکھ بچے حصول تعلیم سے محروم ہیں اور تعلیم کی کمی بھی تشدد او ردیگر مسائل کی سب سے بڑی وجوہات ہے جب تک لڑکیوں کو تعلیم یافتہ نہیں بنایا جائیگا ان میں شعور کی کمی ہوگی اور انہیں گھریلوتشد د اور دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑیگا آخر میں سوالات و جوابات کی نشست بھی ہوئی