اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ہفتے کو بتایا کہ ایران کی ایک تجویز جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک مسترد کرتے آئے ہیں، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال اور ایران پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے جب کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
امریکہ اور ایران سیز فائر ہوئے چار ہفتے گزر چکے ہیں، لیکن اب تک اس جنگ کے خاتمے کا کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے جس نے عالمی توانائی کی سپلائی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کر دیا ہے۔
ایران پچھلے دو ماہ سے زائد عرصے سے اپنی بحری آمدورفت کے علاوہ خلیج سے گزرنے والے تقریباً تمام جہازوں کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ گزشتہ ماہ امریکہ نے بھی ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں پر اپنی ناکہ بندی نافذ کردی تھی۔
ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران کی تازہ ترین تجویز سے مطمین نہیں ہیں تاہم انہوں نے ان نکات کی تفصیل واضح نہیں کی جن پر انہیں اعتراض ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایسی چیزیں مانگ رہے ہیں جن پر میں اتفاق نہیں کرسکتا۔
واشنگٹن نے بارہا یہ کہا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کے بغیر جنگ ختم نہیں کرے گا جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہمیشہ کے لیے روک دے، یہ وہی بنیادی مقصد تھا جس کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ نے فروری میں جوہری مذاکرات کے دوران حملوں کا آغاز کیا تھا۔ دوسری جانب ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
خفیہ سفارت کاری پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ تہران کا ماننا ہے کہ جوہری مذاکرات کو مؤخر کرنے کی حالیہ تجویز ایک بڑی تبدیلی ہے جس کا مقصد کسی معاہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس تجویز کے تحت جنگ کا خاتمہ اس ضمانت کے ساتھ ہوگا کہ اسرائیل اور امریکہ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ جواب میں ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم کردے گا۔
اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے عوض عالمی پابندیاں اٹھانے کے لیے مستقبل میں مذاکرات کیے جائیں گے جس میں ایران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن پرامن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کے اس کے حق کو تسلیم کرے، چاہے ایران اسے عارضی طور پر معطل کرنے پر ہی کیوں نہ راضی ہو جائے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ اس فریم ورک کے تحت ایک زیادہ سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پیچیدہ جوہری معاملے پر مذاکرات کو آخری مرحلے پر منتقل کر دیا گیا ہے۔