پشاور (مانند نیوز) ہیومن رائٹس پروٹیکشن اینڈ سوشل جسٹس پاکستان مردان ڈویژن کے صدر ملک فواد حسین اعوان نے کہا ہے کہ ضلع مردان کے بعض علاقوں میں سادہ لوح شہریوں کو مبینہ طور پر مختلف طریقوں سے دھوکا دینے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جن میں لکی ڈرا کا طریقہ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض مقامات پر معمولی نوعیت کی اشیاء انتہائی مہنگے داموں فروخت کرکے شہریوں کو لکی ڈرا اور لاٹری کے ذریعے انعام حاصل کرنے کا لالچ دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق 50 روپے مالیت کی چیز 2 ہزار روپے تک فروخت کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ملک فواد حسین اعوان نے کہا کہ لکی ڈرا کی آڑ میں جوئے اور آسانی سے پیسہ کمانے کے رجحان کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو بالخصوص نوجوان نسل کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض نوجوان لکی ڈرا پر لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنے والدین کو قرضوں میں مبتلا کر چکے ہیں، جبکہ مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کے باعث بعض نوجوان انتہائی مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے رجحانات کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو خدانخواستہ نوجوان نسل میں خودکشی اور دیگر سماجی برائیوں کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جوئے، لالچ اور غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ملک فواد حسین اعوان نے مردان پولیس سے مطالبہ کیا کہ لکی ڈرا کے نام پر ہونے والی سرگرمیوں کی مکمل چھان بین کی جائے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور نوجوان نسل کو جوئے اور آسانی سے پیسہ کمانے کے رجحان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔