لاہور (مانند میڈیا) پاکستان سنی تحریک وسطی پنجاب کے صدر سردار محمد طاہر ڈوگر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی، قومی خودمختاری، دہشت گردی کا خاتمہ اور قومی اداروں میں شفافیت ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور خیبر پختونخوا میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج اور سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں قابل حمایت ہیں اور پاکستان سنی تحریک کا علماء بورڈ ان اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ دہشت گردی میں ملوث عناصر، ان کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور منصوبہ سازوں کے خلاف دستیاب شواہد کی بنیاد پر بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب میں پاکستان سنی تحریک کے مرکزی رہنماؤں مولانا مجاہد عبدالرسول، نعیم جاوید، اعظم علی نعیمی، پیر شاہد رسول قادری اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سردار محمد طاہر ڈوگر نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے، معصوم شہریوں اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی فرد یا گروہ کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت، پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کی قربانیوں کو پوری قوم سلام عقیدت پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے عناصر کو قومی اتحاد اور دفاع کی مضبوطی کا ادراک ہونا چاہیے۔ ملک میں فرقہ واریت، لسانیت، گروہ بندی اور انتشار پھیلانے کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قومی سلامتی کے معاملات پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قومی اداروں کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر متحد ہونا ہوگا۔پاکستان سنی تحریک کے صدر نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں اور مؤثر انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، عوام کو درپیش انتظامی مشکلات اور بنیادی سہولتوں تک آسان رسائی کے لیے نئے صوبے اور انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں۔ حکومت اس سلسلے میں قومی سطح پر سنجیدہ مشاورت کا آغاز کرے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ضرورت کے مطابق صوبے اور انتظامی یونٹس بننے چاہئیں اور ان کی تشکیل زبانوں یا مختلف ثقافتوں کے بجائے آبادی کے تناسب اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔سردار محمد طاہر ڈوگر نے محکمہ اوقاف پنجاب کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اوقاف کی بیشتر پراپرٹی سنی بریلوی مکتب فکر کے پاس ہے اور اوقاف سے متعلق ان کے آئینی مطالبات پر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے محکمہ اوقاف پنجاب میں شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ ہجویریہ کے اساتذہ کی ڈیلی ویجز کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ داتا دربار، حضرت میاں میر اور بی بی پاک دامن کے مزارات پر علماء کو نمائندگی دی جائے۔ حضرت علی ہجویری انڈر پاس کے بورڈ پر نام ”حضرت داتا علی ہجویری” درج کیا جائے۔ انہوں نے ماضی میں شاہراہوں کو کشادہ کرنے کے لیے مزارات کی منتقلی کے اقدامات کی بھی مذمت کی۔مفتی محمد رمضان سیالوی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سردار محمد طاہر ڈوگر نے ان کے خلاف مبینہ منفی پروپیگنڈے کی مذمت کی اور کہا کہ محکمہ اوقاف نے بھی اس پروپیگنڈے کی تردید کی ہے۔ انہوں نے مفتی رمضان سیالوی پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر مفتی رمضان سیالوی پر ڈیوٹی میں تاخیر کا الزام لگایا جائے تو اس معاملے کو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن کرپشن کے الزامات عائد کرنے سے پہلے تحقیقات مکمل ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک روپے کی کرپشن میں ملوث شخص کو بھی سزا ملنی چاہیے، تاہم وہ مفتی رمضان سیالوی کو حتمی طور پر بے قصور قرار نہیں دے رہے۔سردار محمد طاہر ڈوگر نے ایران، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا کہ علاقائی اختلافات کو مزید کشیدگی میں تبدیل کرنے کے بجائے تحمل، سفارت کاری اور باہمی احترام کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر حملوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان سنی تحریک مکہ معاہدے کی مکمل حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور سفارتی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے