ئی دہلی (مانند میڈیا) ہندوستان کی ریاستوں ہریانہ اور پنجاب میں دو روز کے دوران سری نگر جانے والی دو مسافر بسوں پر پتھراؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد کشمیری مسافروں کے تحفظ اور ان واقعات کے محرکات سے متعلق تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بسیں دہلی سے سری نگر جا رہی تھیں اور ایک ہی ٹرانسپورٹ کمپنی کی ملکیت تھیں۔ پہلے واقعے میں ہریانہ کے ضلع کرنال کے قریب ایک بس پر پتھر اور اینٹیں پھینکی گئیں، جس سے گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور مسافر زخمی ہوئے۔ دوسرے واقعے میں پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے علاقے دوراہا کے قریب ایک بس پر پتھراؤ کیا گیا، جس سے اس کی کھڑکی کو نقصان پہنچا، تاہم کسی مسافر کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ رپورٹس کے مطابق ہریانہ میں پہلا واقعہ 17 اکتوبر کی رات پیش آیا، جب سری نگر جانے والی بس ایک ڈھابے کے قریب رکی ہوئی تھی۔ وہاں بس اور ایک کار میں سوار افراد کے درمیان پارکنگ یا راستہ دینے پر تنازع ہوا، جو پتھراؤ تک جا پہنچا۔ بس کے شیشے ٹوٹنے سے ایک عمر رسیدہ مسافر سمیت دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہریانہ حکومت پر زور دیا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مسافروں کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔ ہریانہ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں واقعے کی وجہ پارکنگ کا تنازع سامنے آیا، جبکہ دو ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔ دوسرا واقعہ 18 اکتوبر کی رات پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے علاقے دوراہا کے قریب پیش آیا، جہاں سری نگر جانے والی دوسری بس پر پتھر پھینکے گئے۔ اس واقعے میں بس کی ایک کھڑکی ٹوٹ گئی، تاہم تمام مسافر محفوظ رہے۔ پولیس نے بس کو بحفاظت آگے روانہ کرنے کے لیے معاونت فراہم کی اور ملزمان کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے سمیت تحقیقات شروع کردیں۔ دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ ۔ ہریانہ پولیس نے پہلے واقعے کو پارکنگ کے تنازع سے جوڑا ہے، جبکہ پنجاب میں پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ مسلسل دو واقعات کے بعد کشمیری مسافروں کے تحفظ سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعات کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور بین الریاستی سفر کرنے والے مسافروں کی سلامتی یقینی بنائی جائے۔