تہران اسلام آباد:( مانند میڈیا)ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے تہران کی جانب سے پیش کردہ ‘سات روزہ منصوبے’ کی تمام بنیادیں اور شرائط تسلیم کر لی ہیں، تاہم واشنگٹن نے اس معاہدے میں مزید چند شقوں کے اضافے کی درخواست کی ہے۔ ارنا کے مطابق عراق کے ‘الانباریہ’ (Al Ekhbariya) ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پردے کے پیچھے سفارتی رابطے اور مذاکرات بلا تعطل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے ایک سات روزہ پیش رفت کا خاکہ امریکی فریق کو بھیجا تھا، جس کے تحت چھٹے دن تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) کو مکمل طور پر بحری نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھولا جانا تھا۔ امریکی حکام نے ان شرائط پر رضامندی کا اظہار کیا ہے لیکن وہ چند نئی شقیں بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ ایران سفارت کاری کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم پیش رفت میں اصل رکاوٹ واشنگٹن ہے، جسے اپنے سابقہ وعدوں ت پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکہ طے شدہ شرائط کی پاسداری کرتا ہے تو آبنائے کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے مزید ادوار کا انعقاد کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں عباس عراقچی نے بحیرہ احمر (Red Sea) کی کشیدگی میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کا تہران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک حتمی تفہیم یا معاہدہ طے نہیں پاتا اور واشنگٹن ایران کی بحری شرائط کو قبول نہیں کر لیتا، تب تک تنگہ ہرمز سے تجارتی و بحری نقل و حمل کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان 14 نکاتی اسلام آباد یادداشتِ پیش رفت (MoU) کے تحت واشنگٹن پر تمام محاذوں سے جنگ کے خاتمے اور غیر قانونی پابندیاں اٹھانے کی پابندی ہے، جس کے بدلے میں تہران تدریجی طور پر اس حکمتِ عملی والی آبنائے کو بحال کرے گا، جسے اس نے مارچ میں امریکی و اسرائیلی جارحیت کے بعد اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔ یاد رہے اس سفارتی پیش رفت کے دوران، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفاق وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران کا اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی? سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سکریٹری جنرل محسن رضائی سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد پاک ایران سرحد کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بقول بارڈر کے تمام مسائل حل کر لیے گئے ہیں اور سرحد کو نقل و حمل کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں سے خطے میں ایک نیا اور پیچیدہ سفارتی چیلنج پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان، جو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے تحفظ کا پابند ہے، تہران کے ساتھ بھی قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران اور امریکہ کے درمیان جمود کا شکار سفارت کاری کو فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سیکیورٹی جائزہ اور ممنوعہ اشیاء کی اسمگلنگ روکنے کے لیے عراق نے ایران کے ساتھ اپنے مصروف ترین ‘شیب’ (Sheeb) سرحدی راستے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تاحال سعودی عرب یا حوثیوں کی جانب سے اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے