پشاور (مانند میڈیا) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت اضاخیل گندم گودام سے فلور ملز کو غیر معیاری گندم کی فراہمی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ گورنر ہائوس پشاور تر جمان کے مطابق اجلاس میں گورنر انسپکشن ٹیم کی جانب سے انکوائری رپورٹ گورنر کو پیش کی گئی۔گورنر انسپکشن ٹیم کے چیٔرمین مختیار احمد نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ٹیم نے 150کنال پر محیط اضاخیل گندم گودام کا معائنہ کیا، جہاں دو بلاکس میں واقع چھ گودام سیلابی پانی سے متاثر ہوئے تھے۔ سیلاب سے متاثرہ گندم کے نمونے تجزیے کے لیے پی سی ایس آئی آر (PCSIR)لیبارٹری بھجوائے گئے، جس نے متاثرہ اور خراب گندم کو انسانی صحت کے لیے مضر اور انسانی خوراک کے استعمال کے لیے ناموزوں قرار دیا۔انکوائری رپورٹ کے مطابق گندم گودام کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب کا الرٹ جاری ہونے کے باوجود احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں، جبکہ سیلاب کے بعد محکمہ خوراک نے گندم کے معیار کا تکنیکی جائزہ لینے کے لیے اسسمنٹ کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی۔ رپورٹ میں غفلت کے ذمہ دار متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ بار بار سیلاب آنے کے باوجود گندم گودام کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی دیوار تعمیر کیوں نہیں کی گئی؟ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حفاظتی دیوار میں موجود سوراخوں کے ذریعے بارش اور سیلابی پانی گودام میں داخل ہوا، جس سے گندم کو نقصان پہنچا۔ گورنر کو مزید بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ گندم کے حوالے سے محکمہ خوراک کے اسٹاک ریکارڈ میں کوئی اندراج موجود نہیں اور نہ ہی متاثرہ گندم کی سائنسی بنیادوں پر جانچ کی گئی۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ مضرِ صحت گندم کی فلور ملز کو ترسیل فوری طور پر بند کی جائے۔ انہوں نے گندم کے ذخائر کی حفاظت، خوراک کے معیار کو یقینی بنانے اور متعلقہ معاملات میں ذمہ داری کا تعین کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔