سوات (مانند نیوز) سوات کی تحصیل کبل چوک میں ڈائنا گاڑیوں کی مالکان اور مزدوروں کا احتجاجی مظاہرہ،دو گھنٹے سے روڈ بند،شہری اور مریض خوار،انتظامیہ مکمل تماشائی،احتجاجی مظاہرہ ملکیتی جائیدادوں اور خوڑ سے ریت اور بجری اٹھانے کیلئے کیا گیا،سوات بھر میں دریاؤں اور خوڑوں سے بجری اور ریت اٹھانے پر ضلعی انتظامیہ نے پابندی لگائی جس سے ڈائنا گاڑیوں کے مالکان اور وابستہ سینکڑوں مزدوروں کو شدید فاقہ کشی کا سامنا رہا ہے،مظاہرین نے کبل چوک میں احتجاجاً ڈائنا گاڑیوں کو کھڑی کی اور مینگورہ کبل روڈ ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کردیا جس سے تینوں اطراف ہزاروں گاڑیاں پھنس گئیں جبکہ مریضوں کو بھی شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا،ڈائنا گاڑیوں کے ایسوسی ایشن رہنما اصغر خان سمیت دیگر مشران نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا جس میں ویلج چیئرمین انجینئر اکرام خان،عالمگیر خان اور دیگر شامل تھے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوات انتظامیہ نے عرصہ دو تین ماہ سے دریائے سوات اور علاقے کے مقامی خوڑوں اور ملکیتی جائیدادوں سے ہر قسم ریت اور بجری اٹھانے پر پابندی عائد کی ہے جس کیوجہ سے ڈائنا گاڑیوں کے غریب مالکان اور مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے کیونکہ بیرونی ممالک محنت مزدوری کرکے کمائی کے پیسوں سے مزدوری کیلئے ڈائنا گاڑیوں خریدیں تاکہ بچوں کا پیٹ پال سکیں لیکن سوات اور مقامی انتظامیہ بیجا تنگ کرکے اپنے ہی جائیدادوں سے ریت اور بجری اٹھانے نہیں دیتی جو ہمارے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی پر مبنی ہے مقررین نے کہا کہ مجبوری کے عالم میں کبل چوک احتجاج کیلئے جمع ہونا پڑا حکومت مارے تو بہتر ہے لیکن یہاں سے کسی صورت واپس نہیں جائیں گے۔