ڈیرہ اسماعیل خان (مانند نیوز)ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پروا کی حدود میں ٹارگٹ کلنگ سے شہید ہونے والے عامر عباس بلوچ کے لواحقین کا پندرہ گھنٹوں سے مین انڈس ہائی وے پر گاؤں پکہ ہزارہ کے مقام پر دھرنا جاری ہےپندرہ گھنٹوں کے بعد بھی پشاور کراچی مین روڈ نہ کھل سکالواحقین و مظاہرین کا مطالبات کے تسلیم اور پاک فوج کی یقین دھانی کے بغیر دھرنا ختم نہ کرنے کا اعلان کر دیا سخت سردی میں کھلے اسمان تلے رات گزارنے کی وجہ سے متعدد دھرنا مظاہرین بالخصو کمسن بچے بیمار ہو گئےڈپٹی کمشنر ڈیرہ محمد قیصر اور ڈی پی او ڈیرہ محمد شعیب سے مظاہرین و لواحقین نے مذاکرات کرنے سے صاف انکار کر دیامین انڈس ہائی وے روڈ بند ہونے کی وجہ سے دونوں طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہےمین انڈس ہائی وے ہزارہ پکہ کے بعد ڈیرہ شہر میں بھی دھرنا دینے کی تیاری شروع کر دی گئی۔ زرائع کے مطابق مین جی پی او چوک، فوارہ چوک یا کوٹلی امام حسین کے سامنے کسی ایک مقام پر دھرنا دیا جائے گالواحقین و مظاہرین نے پولیس کو مذاکرات سے روک دیا۔ مظاہرین و لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس کا کوئی نمائندہ دوبارہ مذاکرات کے لیے نہ ائےمظاہرین و لواحقین کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ اور اسٹیشن کمانڈر ڈیرہ کے علاوہ کسی سے مذاکرات نہیں ہونگےٹارگٹ کلنگ میں قتل ہونے والے نوجوان کے لواحقین کا میت روڈ پر رکھ کر دھرناہزارہ پکہ تحصیل پروا کے مقام پر مرد و خواتین کا احتجاجی دھرنا جاری مین انڈس ہائی وے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بندجب تک قاتل گرفتار نہیں ہوتے اور انصاف نہیں ملتا دھرنا جاری رہے گا