وانا (مانند نیوز) یونیسیف (کامنیٹ) لوئر وزیرستان کی جانب سے صحافی کی واقفیت سیشن اور پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں عوامی بیداری میں میڈیا کا کردار کے حوالے سے آگاہی سیشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا، پولیو کے حوالے سے صحافیوں کے لئے آگاہی سیشن پروگرام کے موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا کے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسیف (کامنیٹ) کی جانب سے ڈی ایچ سی ایس او امیر عباس، ڈی ایس او محمد منیر وزیر، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر لوئر وزیرستان ڈاکٹر عصمت وزیر، امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر نوید خٹک، ڈیسیس سرویلنس آفیسر ڈاکٹر ریاض احمد وزیر اور ہیلتھ کی جانب سے ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ہدایت اللہ نے اظہار خیال کیا۔ پولیو مہمات کی کامیابی کیلئے صحافیوں کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی افواہوں کو موثر طور پر زائل کیا جاسکے۔ ڈبلیو ایچ او لوئر وزیرستان ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عصمت وزیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح میں صحافی کا کلیدی کردار ہے۔ جس سے ہم باخبر ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع لوئر وزیرستان میں ہمیشہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہوتی ہے۔ خبروں میں کسی قسم کی سنسنی خیزی نہیں پھیلائی جاتی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پولیو مہمات کی کامیابی میں صحافیوں کو باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی افواہوں کو موثر طور پر زائل کیا جاسکے۔ پولیو وائرس میں افغانستان اور پاکستان سرفہرست ہے دنیا میں بد قسمتی سے یہ دو ممالک میں پولیو کا وائرس ابھی تک موجود ہے۔ اگر ہم لازمی ایمونائزیشن کے حفاظتی ٹیکہ جات کو اہمیت دیتے تو ہم کب کے پولیو کو ملک سے ختم کر چکے ہوتے۔ کامنیٹ کی جانب سے ڈی ایچ سی ایس او امیر عباس نے کہا کہ پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کے لئے ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے تاکہ ہم ائندہ پولیو مہمات میں سو فیصد بچوں تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم لازمی ایمونائزیشن کے حفاظتی ٹیکہ جات میں پولیو کے علاوہ ہم اپنے بچوں کو بارہ دیگر خطرناک بیماریوں سے بھی بچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی نظریں اس وقت ہم پر اس لئے لگی ہوئی ہیں کہ ماحولیاتی نمونوں میں یہاں پولیو کا وائرس موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ عوام اپنے سوشل مسئلوں کے حل کو پولیو مہمات سے مشروط کر دیتے ہیں۔ جو سراسر غلط ہے یہ لوگ اپنے بچوں کی زندگی داؤ پر لگاتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ ہم میڈیا کے ذریعے والدین تک یہ پیغام پہنچائیں کہ وہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلائیں کیونکہ خدانخواستہ اگر ایک بار بچے کو پولیو کے وائرس نے متاثر کیا تو ساری عمر کے لئے آپکا بچہ جسمانی معذور ہوگا اور دوسروں کا بوجھ اٹھانے والا خود معاشرے اور خاندان پر بوجھ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے عوام کی ذہن سازی کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔آخر میں میڈیا پرسنز اورینٹیشن سیشن کے شرکاء نے ہیلتھ کونسل جنوبی وزیرستان لوئر واٹس ایپ گروپ کے ذریعے آگاہی پھیلانے میں COMNet ٹیم کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ گروپ کو صحت سے وابسطہ معلوماتی مواد کے ساتھ باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، جس سیکمیونٹی میں صحت سے متعلق اگاہی کے بارے میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہیں۔