اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے رہنما مولانا عبدالاکبر چترالی کے فنانس بل میں سود شامل ہونے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینے کا مطالبہ کردیا۔اتوار کو اجلاس اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا مالیاتی بل پر بحث ہوئی۔جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو اسلامی پیمانے پر جانچنے کے لئے بھیجنے کا مطالبہ کردیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ فنانس بل سودی نظام پر مبنی ہے حکومت اسے منظور کرکے وفاقی شرعی عدالت کے سود کے خاتمے کے فیصلے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔ مولانا عبدالاکبر چترالی کی تحریک وفاقی شرعی عدالت سود کے خاتمے کا فیصلہ دے چکی ہے۔مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے حکومت سود کے حق میں دائر دودرخواستیں بھی سپریم کورٹ سے واپس لے چکی ہے، اب فنانس بل میں سود شامل ہے اس لئے اگر اس پر اسلامی نظر یاتی کونسل کی رائے نہیں لی جاتی تو یہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔مولانا عبدالاکبر چترالی کے مطالبہ پر سپیکر نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو رائے کے لئے بھیجنے کے لئے ووٹنگ کرادی۔ سود کی مخالفت کرنے والی حکومتی اتحادی جے یو آئی نے بھی فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی مخالفت کردی حکومتی اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان بھی فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی مخالفت کی۔ جماعت اسلامی کے واحد رکن مولانا عبدالاکبر چترالی نے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کے حق میں ووٹ دیا قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے فنانس بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی تحریک کی مخالفت کردی جس پر تحریک مسترد ہوگئی۔