اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم کہتے ہیں انتخابات کو تاخیر کا شکار کرنے میں پاکستان مسلم لیگ (ن)کا بھی ہاتھ ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کا بھی ہاتھ ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ عدالت رہنمائی کرے اور واضح حکم دے کہ آئین میں جو لکھا ہے کہ اتنے دنوں میں الیکشن کاانعقاد ضروری ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو واضح ڈیڈ لائن دے کہ آپ اس تاریخ تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان کریں۔ میں یہی چاہتا ہوں کہ نگران سیٹ اپ لمبے عرصہ کے لئے نہ ہو کیونکہ اگر یہ لمبے عرصہ کا سوچیں گے تومسائل بھی بڑھیں گے۔ نگران حکومت کا اپنی مدت میں اضافہ کرنا نہ ملک کے لئے بہتر ہے نہ خودان لوگوں کے لئے بہتر ہے، تاریخ میں نام لکھوانا چاہتے ہیں تویہی ہو گا کہ انوارالحق کاکڑ نے بروقت اورشفاف انتخابات کاانعقاد کر کے تاریخ میں ایک نام بنایا ہے۔ پاکستان دنیا میں گنا اگانے والا 8واں بڑا ملک ہے یہاںپر توچینی 20روپے فی کلو ہونی چاہیے،الیکشن کی تاریخ اور شفاف الیکشن کے انعقادپراتفاق، یہی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک مشترکہ نقطہ ہو سکتاہے اس پر ہمیں آپس میں ڈائیلاگ کرنا چاہیے اورہمارایہ ارادہ بھی ہے۔ ان خیالات کااظہار سراج الحق نے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کیا۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کی اس منطق اوردلیل کو بالکل تسلیم نہیں کرتے کہ جب تک 538ارب روپے کی بجلی کی چوری پرقابونہیں پایاجاتااس وقت تک بجلی کے بل کم نہیں کئے جاسکتے، یہ توحکومت کی غلطی ہے اس میں عوام کاکیاقصور ہے۔جب تک حکومت بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کو واپس نہیں لیتی ہماری احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ حکومت کے پاس بجلی،ایل پی جی، پیٹرول اورڈیز ل کی قیمتیں بڑھانے کا اختیار ہے اور کم کرنے کااختیار نہیں،یہ بات کون مانے گا، ہم تونہیں مانتے۔ہم چاہتے ہیں کہ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر نظرثانی ہو۔ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی سپریم کورٹ آف پاکستان میں جارہی ہے۔ جماعت اسلامی نیشنل انرجی کانفرنس کا بھی انعقاد کررہی ہے جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ متبادل تجویز بھی ہو کہ ہمارے پاس کیا متبادل ہے، ہم صرف اعتراض نہیں کرتے بلکہ ہمارے پاس اس کا متبادل حل بھی موجود ہے۔ انہوںنے کہا کہ جماعت اسلامی نے عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے، ہم چاہتے ہیں سپریم کورٹ جلد ازجلد سماعت کی تاریخ دے، ہم چاہتے ہیں کہ بروقت انتخابات ہوں، 24کروڑ انسانوں کا ایک سمندر ہے جسے چند وزراء نہیں چلاسکتے جن کو مینڈیٹ حاصل نہ ہو،جس پر دنیا اعتماد نہ کرے اور جن کی پشت پر قومی اسمبلی، چاروں صوبائی اسمبلیوں اورعوام کااعتماد نہ ہو، آئین میں دیئے گئے مینڈیٹ کے مطابق 90دن کے اندر، اندر انتخابات کروانا ضرور ی ہے، آئین کاآرٹیکل 224اس حوالے سے واضح ہے اور اگر بروقت انتخابات نہ کرائے گئے توہم سمجھیں گے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اورموجودہ نگران حکومت آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے انتخابات کی کوئی تاریخ نہیں دی اورانہوںنے آئین کو الماری کے درازمیں رکھا ہے، ہم سپریم کورٹ اس لئے جارہے ہیں کہ جو شکوک وشبہات ہیں اس میں الیکشن کمیشن کے رویہ نے اضافہ کیا ہے کمی نہیں کی۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم بالکل واضح ہیں کہ اگرآپ نے 24کروڑ عوام کو دلدل اوربھنور سے نکالنا ہے توواحد حل ہم الیکشن ہی کو سمجھتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تمام پارٹیوں کو سنا ہے جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہیں اوراب تولوگ الیکشن کمیشن کے منہ سے وہ تاریخ سننا چاہتے ہیں کہ کب وہ انتخابات کی تاریخ دے رہے ہیں۔ پاکستان دنیا میں گنا اگانے والا 8واں بڑا ملک ہے یہاںپر توچینی 20روپے فی کلو ہونی چاہیے۔ کسان سے گنا 300روپے فی من قیمت پر لیا جاتا ہے اورکہا جاتا ہے کہ چینی 90روپے فی کلو فروخت ہو گی لیکن اب چینی 200روپے اور215روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے، عوام نے اس ظلم کو مستردکیا ہے، ہم نگران حکومت سے کہتے ہیں چند سمگلر ہیں ان کو کنٹرول کرنا کون سامشکل کام ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ پاکستان جیسی قوم کہیں بھی نہیں ہے،اتنے خطرناک سیاستدان اگر کسی اورملک میں ہوتے تواُس ملک کا نقشہ ہی بگڑجاتااورختم ہو جاتا، پاکستانی قوم توپھر بھی زندہ اورسلامت ہے اورسانس لے رہی ہے اورجاگ رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومت اورفوج چاہے توآسانی کے ساتھ بارڈرز پر اسمگلنگ کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ میرے ملک میں امن ہو، میرے ملک میں قانون کی حکمرانی ہو، میں یہی چاہتا ہوں کہ تمہارے بچے کو امن ملے اور انصاف ملے، چاندی جیسادودھ ملے اور پانی صاف ملے۔انہوںنے کہا کہ یقینی طور پرجس ملک میں تاجرپریشان ہوں تو وہاں کے لوگ بھی پریشان ہوتے ہیں اورجہاں تاجر خوشحال ہو وہاں کے لوگ بھی خوشحال ہوتے ہیں،تجارت کے بغیر توکسی قوم کی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی، اس لئے تاجروں کے لئے جو بھی امید بھری بات کرتا ہے اُس سے وہ بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن ہم توچاہتے ہیں کہ عام آدمی کو ریلیف کب ملے گا۔ ہماری آواز پارٹی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی آواز ہے کہ اس مہنگائی کوواپس لو اورعوام کوجینے دو۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مستعفی ہونے کے حوالے سے مجھ سے کوئی مشورہ نہیں مانگااس لئے میں کوئی مفت مشورہ نہیں دینا چاہوں گا،ڈاکٹر عارف علوی متنازع ہیں یا نہیں لیکن وہ مشکل میں ضرور ہیں، اس لئے کہ ان کی صدارت ایوان صدر کی دیواروں تک ہی محدود ہو گئی۔میاں محمد نوازشریف کی وطن واپسی کے سوال پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ اسٹیٹس کو کے جو محافظین ہیں ان کے آنے جانے سے قوم کو کوئی ریلیف یا تبدیلی ملے گی، میں اس لئے چاہتا ہوں کہ آزمائے ہوئے لوگوں کو دوبارہ آزمانا،یہ اپنے ساتھ، اپنے مستقبل کے ساتھ اوراپنی نئی نسل کے ساتھ زیادتی ہے، اس ملک میں ایک موقع ایسے لوگوں کو چاہیے جو نظام کو بھی بدلیں، میں عوام سے اپیل کرنا چاہتاہوں کہ اب حکمران کو بھی بدلیں اورنظام کو بھی بدلیں۔