شانگلہ(مانند نیوز) شانگلہ کے ڈپٹی کمشنر اور شانگلہ بار ایسوسی ایشن کے وکلا ء آمنے سامنے ہوگئے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر دی۔شانگلہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے کی کال پرشانگلہ ایکشن کمیٹی،سیاسی اور مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ شدید احتجاج مظاہروں کے بعدبیشتر وکلا ء کے عزیز و اقارب اور رشتہ داروں کے خلاف ضلع انتظامیہ نے گرا تنگ کر دیا ڈپٹی کمشنر شانگلہ کی جانب سے ڈی سی افس الپوری سے تبادلے کر دیے گئے ہیں جس کے بعد وکلا ء برادری اور ڈپٹی کمشنر کے مابین معاملات مزید سخت ہوتے نظر آرہے ہیں۔ تبادلوں پر مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقین سے مفاہمت اور سنجیدگی سے معاملات حل کرنے پر زور دیا اور ڈپٹی کمشنر شانگلہ کی رویے کونامناسب قرار دیا ہے جبکہ وکلاء سے بھی معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ترغیب دی۔ ذرائع کے مطابق پیر کے روز احتجاج کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس افیسر سجاد احمد صاحبزادہ کی قیادت میں وفد نے شانگلہ ایکشن کمیٹی اور شانگلہ بار ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد سے طویل ملاقات کی اور مذاکرات پر امادہ کرنے کی کوشش کی تا ہم پیش رفت نہ ہو سکی۔ وکلا ء کی جانب سے ڈپٹی کمشنر شانگلہ پر کرپشن کے اقدامات لگائے جا رہے ہیں جبکہ وہ اس کی تردید کر رہے ہیں۔ شانگلہ میں ایسی صورتحال پہلی مرتبہ نظر آرہی ہے کہ انتظامیہ اور وکلا ء آمنے سامنے ہو چکے ہیں اور کوئی بھی تیسرا فرد یہاں مذاکرات کے لیے کردار ادا نہیں کر رہے ہیں ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر شانگلہ مذاکرات کے خواہش مند نہیں اور وہ انتظامیہ نظام اپنے ذاتی عناء کیلئے استعمال کر رہے ہیں جس سے معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔شانگلہ کے سرکاری ملازمین کے تنظٰیموں نے بھی ڈپٹی کمشنر شانگلہ حسین عابد کے ساتھ کھڑے ہیں اور واضح طور پر تنظیم کے صدر خذر حیات کی قیادت میں میٹینگ ہوئی جسمیں انتظامیہ اور با رکے درمیان جاری کشیدگی پر تفصیلی بحث ہوئی،تنظیم کے مطابق کوئی بھی ایک قانون سے بالاتر نہیں اور سرکاری ملازمین کی تنظیمیں ڈپٹی کمشنر اور حق کیساتھ ہیں۔۔