چترال(مانند نیوز)گورنمنٹ سینٹینل ماڈل ہای سکول چترال مِیں پڑھنے والے طلباء پر مبنی تنظیم اولڈ بوایز ایسوسی ایشن چترال ہای سکول پر مشتمل اس سکول میں پڑھنے والے سابقہ طلباء کی تنظیم نے اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے کیلیے اس سکول میں تقریب منعقد کیا۔ اس تقریب کا اہتمام الحاج عید الحسین نے کیا تھا جو اسی سکول میں پڑھ چکا ہے۔اس سلسلے مِیں اسی سکول میں پڑھنے والے تمام سابقہ طلباء کو اس تقریب میں شرکت کرنے کیلیے دعوت دی گیی جن میں بعض ڈاکٹر، پروفسیر، فوجی اور سول افسران اور کاروباری حضرات شامل ہیں۔ تقریب کے سلسلے میں سب سے پہلے ان تمام سابقہ طلباء کو سکول کے لان میں اکٹھا کیا گیا جن کی عمریں اب اسی سے لیکر نویں سال تک پہنچ چکی ہیں۔ سکول کے گراونڈ میں پرچم کشای کی گی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا اور اس کے بعد اسمبلی بھی کرای گی جس کی قیادت اسی سکول کے طالب علم اور اسی سکول میں تعینات فزیکل ایجوکیشن ٹیچر فاروق اعظم نے کی۔ اسمبلی برحاست ہونے کے بعد ان تمام طلباء کو کلاس روم میں بٹھایے گیے جس طرح اج سے پچاس، ساٹھ سال پہلے سکول میں طالب علم کی حیثیت سے بیٹھ کر سبق پڑھتے تھے۔ اس دوران الحاج عید الحسین نے استاد کا کردار ادا کرتے ہویے طلباء کو سبق پڑھایا اور ان سے پرانا سبق بھی یاد کروایا جس میں بعض طلباء کو سبق یاد نہ کرنے پر ان کی سرزنش بھِی کرای گیی۔اس کے بعد یہ یہ تمام لوگ سکول کے ہال میں گیے جہاں ایک سادہ تقریب منعقد ہوی۔ تقریب کی صدارت دروش سے تعلق رکھنے والے اسی سکول کے ایک طالب علم محمد عالم نے کی جو محکمہ حوراک سے ریٹایرڈ ہے جبکہ اس شاہ عجم مہمان حصوصی تھے جواسی سکول سے پڑھ کر محکمہ معدنیات سے بطور ڈایریکتر ریٹایرڈ ہویے۔ تقریب سے محتلف لوگوں نے اظہار حیال کرتے ہویے اس پر نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ اسی بہانے ہم سب کلاس فیلو ایک دوسرے سے مل بیٹھنے کا موقع ملا اور ایک دوسرے کی خیریت سے اگاہ ہویے۔ اس موقع پر اس تقریب کا اہتمام کرنے والے الحاج عید الحسین نے کہا کہ اس پروگرام کو منعقد کرنے میں اس کا کوی سیاسی مقصد نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اسی سکول میں پڑھنے والے وہ سابقہ طلباء ایک بار پھر اکٹھے ہوکر اپنی پرانی یادیں تازہ کرے اور اس زمانے کی طرح اسمبلی میں حصہ لے، کلاس روم میں سبق پڑھے اور بعض کمزور شاگرد کو استاد کے ہاتھ سے ڈھنڈے سے بھی سرزنش کی جایے جو اکثر ہمارے زمانے میں استاد اپنے کمزور شاگر کو لاٹھی سے مارتا تھا بعد میں جسمانی سزا پر پابندی لگ گیی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کا مقصد اگر ایک طرف تمام پرانے دوستوں کو اکٹھا کرنا تھا تو دوسری جانب اس کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ اس سے نوجوان نسل کو ایک پیغام دیا جایے کہ وہ بھی محنت اور دل لگی سے سبق پڑھے تاکہ وہ بھی عملی زندگی میں اس طرح کامیاب ہوجایے جس طرح یہ سابقہ طلباء نے محنت کرکے شوق سے سبق پڑھا اور سکول کے بعد بعض طلباء نے کالج اور یونیورسٹی سے بھی ماسٹر ڈگری لیکر اعلےِ عہدوں پر تعینات ہویے۔ ان سابقہ طلباء میں سے کوی فوج میں تو کوی سول محکموں میں افسران ہیں اور بعض لوگوں نے کاروبار کو ترجیح دی جس کامیاب تاجر ثابت ہویے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں کوی بڑا کارحانہ، انڈسٹری، بڑا کاروبار یا معاش کے دیگر ذرایع بہت کم ہیں اسی لیے ہماری ترقی کا راز صرف اور صرف معیاری تعلیم میں پنہاں ہے۔ اس موقع پر دیگر شرکاء نے بھی اظہار حیال کرتے ہویے عید الحسین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے بھل بوتے پر ان تمام طلباء کو اکٹھا کیا اور ان کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع فراہم کرتے ہوے پرانی یادیں تازہ کرالی۔ مقررین نے سکول میں لگایے ہانر بورڈ جس میں پوزیشن لینے والے طلباء کے تصاویر لگے تھے ان کو ہٹانے پر برہمی کا اظہارکرتے ہویے مطالبہ کیا کہ ان تصاویر کو دوبارہ لگایا جایے تاکہ ان کو دیکھ کر اج کے طالب علم کو بھی شوق پیدا ہو کہ وہ بھی محنت کرتے ہویے اپنا نام پیدا کرے اور اس کا تصویر بھی یہاں لگ جایے جن طلباء نے نمایاں پوزیشن حاصل کی ہیں۔ چند مقررین نے اظہار حیال کرتے ہویے کہا کہ ان کا تعلق فٹ بال سے تھا اور جب ہم نے اج سے پچاس سال پہلے فٹ بال کا ڈسٹرکٹ کپ جیتا تو چترال سکاوٹس کے دستے نے بھِی ان کو سلامی دی۔ یہ تقریب دعاییہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا جس میں اسی سکول میں سبق پڑھنے والے سابقہ طلباء نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے