پشاور (مانند نیوز )خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو)پشاورکے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے میساچیو سٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) امریکہ کا دورہ کیا۔ان کے اس دورے کا مقصد اس عالمی درسگاہ میں کینسر کی جدید تحقیق پر کام کرنے والے خیبرپختونخوا کے سپوت ڈاکٹر اسحاق خان کی ناقابل یقین کامیابیوں پران کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹرضیاء الحق کاکہنا تھا کہ ڈاکٹراسحاق کی ایم آئی ٹی سے وابستگی نہ صرف ہماری قوم کے لیے بلکہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے بے پناہ فخر کا باعث ہے۔ وہ کامیابی اور عزم کی ایک روشن مثال کے طور پر کھڑا ہیں جنہوں نے دوسرے لاتعداد نوجوان محققین کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب دی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرضیاء الحق نے ان سے ملاقات میں ان کی مستقبل کی کوششوں کے لیئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے عزم ظاہر کیاکہ وہ جدت اور امیدکے ساتھ نئی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر اسحاق خان کینسر کی تحقیق کے شعبے میں ہمیشہ ایک سرشار سائنسدان رہے ہیں۔کے ایم یو میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر اپنے پیشہ ورانہ کیرئیر کاآغاز انہوں نے نہ صرف 350 سے زائد مریضوں کے ڈیٹا کے ساتھ برین ٹیومر سیل لائنوں کے لیے ایک قومی بائیو بینک کے قیام کے ساتھ کیا بلکہ انہوں نے منہ اور چھاتی کے کینسر کے مریضوں کو بھی اپنی تحقیق کے دائرہ کار میں شامل کیا۔ڈاکٹر اسحاق کو کے ایم یو لیب میں پرنسپل انوسٹی گیٹر کے طور پر کینسر کے ٹشوز، خون، DNA، RNA، اور بالغ اورنابالغ بچوں کے دماغ کے ٹیومر کے مریضوں کی ایک وسیع رینج سے بنیادی سیل کلچر کی تیاری کااعزاز بھی حاصل ہے۔ علم اور تحقیق کی جستجو نے انہیں ٹیکساس A&M ہیلتھ سائنس سنٹر میں پوسٹ ڈاکٹرل محقق کے طور پر پہنچایاجہاں سے انہوں نے رونالڈ ایف بورن شاندار محقق کا اعزاز حاصل کیا۔ دماغ کے ٹیومر کی تحقیق کے لیے یہ ان کا غیر متزلزل جذبہ تھا جس نے بالآخر انھیں جامعات کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن کی حامل میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی امریکہ کی اکیڈمیا میں سینئر سائنس دان کے اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا۔ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ بات قابل فخر ہے کہ یہ ادارہ اس سال کے علاوہ مجموعئی طورپر سو نوبل انعام یافتہ افراد کے ساتھ جدت طرازی کے ایک نشان کے طور پر کھڑا ہے۔یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں معاشرے کی بہتری کے لیے انسانیت کی جدید ترین ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں۔ ایم آئی ٹی کے اختراعی پلیٹ فارمز کے تحت ڈاکٹر اسحاق دماغ کے کینسر کے مریضوں کے علاج میں انقلاب لانے کے لیے نینو سائز کے چپس کے وائرلیس برین امپلانٹیشن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ علاج کی یہ اہم حکمت عملی نہ صرف کینسر کی مختلف اقسام کے علاج کی امیددلاتی ہے بلکہ الزائمر اور پارکنسنز کی بیماریوں سمیت سابقہ ناقابل علاج اعصابی عوارض کے منظر نامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔#

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے