پشاور( مانند نیوز )8 فروری کو ووٹ کس طرح کاسٹ ہوگا اور ووٹر کو کن مراحل سے گزرنا پڑے گا؟ اس حوالے غیر سرکاری تنظیم فافن کے تعاون سے سٹیپ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام اسلامیہ گرلز کالج بغدادہ مردان میں ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار کے بارے میں ایک موک ایکسر سائز ہوا جس میں کالج کے طالبات نے بڑھ چرھ کر حصہ لیا،سٹیپ آرگنائزیشن نے ووٹرز کی رہنمائی کے لئے ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار سے متعلق ویڈیو چلائی۔موک ایکسر سائز کے حوالے سے سٹیپ آرگنائزیشن کے محمد اسماعیل نے کہا کہ الیکشن کے دن ووٹرز کو 4 مراحل طے کرنے پڑیں گے۔ پہلے مرحلے میں پولنگ آفیسر آپ کا اصل شناختی کارڈ اور انتخابی فہرست میں درج تفصیلات چیک کرے گا۔ آپ کا نام اور سلسلہ نمبر بلند آواز سے پکارا جائے گا۔ پھر انتخابی فہرست سے آپ کا نام کاٹ دیا جائے گا۔ اس کے بعد آپ کے انگوٹھے کا نشان لیا جائے گا اور انگوٹھے پر سیاہی کا نشان لگا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے لیے سبز، صوبائی اسمبلی کے لیے سفید بیلٹ پیپر جاری ہوگا، ووٹر یقین کرلے بیلٹ پیپر کی پشت پر مجاز افسر کی مہر اور دستخط موجود ہیں، بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے نام اور نشان موجود ہوں گے۔ووٹر اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسرن سے مہر لیکر پردے کے پیچھے جائے گا اور پسندیدہ امیدوار کے خانے میں مہر لگائے گا، ووٹر قومی اسمبلی کا بیلٹ پیپرسبز اور صوبائی اسمبلی کا بیلٹ پیپر سفید ڈھکن والے باکس میں ڈالے گا۔انہوں نے کہا کہ ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ڈالا جا سکے گا جبکہ زائد المعیاد شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔