پشاور(مانند نیوز) ڈیرہ پریس کلب کو اپنے ہی سینئرعہدیدار سے اندرونی اختلافات اور تنازعات کی بنیاد پر سوسائٹی ایکٹ 1860 کے تحت تجدید زیر التواء کا شکار اور عدالتی کاروائی عمل میں لانے کی وجہ سے سال 2022کے بعد تجدید ڈیرہ پریس کلب پر عمل درآمد روکے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔مصدقہ ذرائع سے موصول دستاویزات کے مطابق ڈیرہ پریس کلب کے آئین اور دستور کی پاسداری کے برعکس سرکاری ملازمین، سیاسی عہدیداران، ڈمی جرنلسٹس اور غیر پیشہ ورزانہ و جعلی صحافیوں کو ڈیرہ پریس کلب میں خلاف قانون ممبر شپ اور رُکنیت دینے پر سینئر عہدیدار عبدالحمید بلوچ نے مذکورہ پریس کلب کے خلاف بعدالت سینئر سول جج ڈیرہ اسماعیل خان میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ مذکورہ سینئر عہدیدار نے اپنے دائر کیس میں رجسٹرار سوسائٹیز اینڈ فرمز محکمہ صنعت وحرفت، ڈسٹرکٹ انڈسٹریز آفیسرڈی آئی خان، ریجنل انفارمیشن آفیسر ڈی آئی خان، انچارچ(PID) ڈی آئی خان، ڈائریکٹر انفارمیشن خیبر پختون خوا، انچارچ کمیٹی انڈونمنٹ فنڈ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ اور صدر و جنرل سیکریٹری پریس کلب ڈیرہ کو فریق بنایا ہے۔جبکہ ڈائریکٹر جنرل محکمہ صنعت و حرفت خیبر پختون خوا کو ڈیرہ پریس کلب کی تجدید برائے سال 2023/2024 کو نہ کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ جس کے مطابق ڈیرہ پریس کلب متعدد وجوہات کی بنیاد پر تنازعات کا شکار ہے اور اس ضمن میں عدالتوں میں کیسز زیر غور ہیں۔ اور مقدمات کے حتمی فیصلے تک ڈیرہ پریس کلب رجسٹریشن نمبر5/2116کی تجدید جو کہ2022تک کی گئی ہے کو عدالتی فیصلے تک زیر التوا ء میں رکھنے کی درخواست جمع کی ہے۔اس ضمن میں جب ڈیرہ پریس کلب کے جنرل سیکریٹری محمد اقبال بھٹی سے موقف لیا تو انھوں نے کہا کہ مذکورہ عہدیدار کو ڈیر ہ پریس کلب سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ ڈیرہ پریس کلب کا ممبر نہیں رہا جبکہ جب عبدالحمید بلوچ سے اس بارے موقف لیا تو انھوں نے کہا کہ یکطرفہ اور غیر شفاف الیکشن کے انعقاد کی وجہ سے ڈیرہ پریس کلب متنازعہ ہو چکا ہے۔اورسرکاری ملازمین، سیاسی عہدیداران، ڈمی جرنلسٹس اور غیر پیشہ ورزانہ و جعلی صحافیوں کو ڈیرہ پریس کلب میں خلاف قانون ممبر شپ اور رُکنیت دینے پر عدالت سے رجوع کیا ہے۔ تاہم تاحال ڈیرہ پریس کلب کی سالانہ تجدید 2022 کے بعد نہیں ہوئی ہے۔