پبی (مانند نیوز) سرکاری ملازمین کارخانہ داروں سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں۔کارخانہ دار ٹیکس چور بھی ھے۔اور ذخیرہ اندوز بھی۔لیکن حکومت کارخانہ داروں کو سبسڈی اور بلاسود قرضے دیتے ہیں۔اور زیادہ ٹیکس دینے والے سرکاری ملازمین سے پنشن کموٹیشن اور لیوانکشمنٹ کی سہولت ختم کیا جاتا ہے۔ملک میں اندھیرا نگری چوپٹ راج ھے۔ملک کو دو فیصد کارخانہ داروں اور کرپٹ اشرافیہ نے یرغمال کیا ھے۔سرکاری ملازمین اور غریب عوام کا کوئی والی وارث نہیں۔ملک خونی انقلاب کی طرف جارہا ہے۔حکمران خوش کے ناخن لیں۔ملک میں جلد سول نافرمانی کا تحریک شروع ھو جائے گا۔ان خیالات کا اظہار اورنگزیب کشمیری مرکزی سیکرٹری جنرل ایپکا پاکستان نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ میں کلرکس برداری کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا۔کہ کرپٹ اشرافیہ نے ملک کے سرکاری ملازمین اور غریب عوام کو سول نافرمانی پر مجبور کر رھے ھیں۔سرکاری ملازمین جو حکومت کو سالانہ کارخانہ داروں اور کرپٹ اشرافیہ سے زیادہ ٹیکس دے رھے ھیں۔لیکن ان کو وہ مراعات نہیں مل رہے ہیں۔جن کے وہ حقدار ہے۔بلکہ ان کے برعکس ٹیکس چور کارخانہ داروں،اورامیرترین لوگوں ٹیکسوں میں چھوٹ اور سبسڈی بھی دے رہے ہیں۔جسکی وجہ سے ملک میں بحران اور مہنگائی کا سونامی آچکا ھے۔اور سرکاری ملازمین اور غریب عوام 75 سال سے اس مہنگائی کے چکی میں پس رہے ہیں۔سرکاری ملازمین اور عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ھو چکا ھے۔اور عیدالفطر کے بعد اس نومنتخب وفاقی حکومت کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے سول نافرمانی کے تحریک کا آغاز کرینگے۔کیونکہ اگر نومنتخب وفاقی حکومت نے اس مہنگائی کے سونامی یوٹیلیٹیز بلوں میں خاطر خواہ کمی نہیں کی۔اور یہ حالات بدستور جاری رھے۔تو ملک بھر کے انتظامی مشینری جام کر رکھ دینگے۔اور ان کرپٹ مافیا سیاستدانوں اور حکمرانوں کے گھروں اور محلات کا گھیراؤ کرینگے