وانا (مانند نیوز) جمعیت علماء اسلام جنوبی وزیرستان لوئر کے ضلعی امیر مولانا مرزاجان وزیر کی شہادت پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ تیسرے دن بھی تواتر سے جاری رہا، فاتحہ خوانی کیلئے آنیوالوں میں جمعیت علماء اسلام ف ضم اضلاع کے امیر سابقہ ایم این اے مولانا جمال الدین، سابقہ سینیٹر اور فاٹا کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرشید، فنانس سیکریٹری الحاج شمس الدین کے علاؤہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا تانتہ پورا دن باندھا رہا، ضم اضلاع کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرشید نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی پٹی وہ بدبخت علاقہ ہے، جہاں پر کئی عشروں سے امن وامان زنگ آلود ہوگیا ہے، اس پٹی میں حق اور سچ کی پرچار کرنے والا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں، بدامنی کی اس لہر نے سینکڑوں علماء طلباء اور ہزاروں لوگوں کو نگل لیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امن وامان کا قیام ریاست اور ریاستی اداروں کی بنیادی فرائض میں اہم فریضہ ہے، اگر اس پٹی میں کسی کو تحفظ حاصل نہیں تو ہماری انگلیاں لازمی ہمارے سیکیورٹی اداروں پر اٹھے گی۔ جنرل سیکریٹری نے کہا کہ اگر تم ایک مرزاجان کو ماریں گے، تو سینکڑوں میرزاجان پیدا ہوں گے،جمعیت علماء اسلام کو ایک سوچ ہے، اپ اس سوچ کو کبھی شکست نہیں دے سکتے،جمعیت وہ جماعت ہے،جو کہ ان کے اکابرین نے اس کی آبیاری خون دے کرکی ہے، اس کو آپ کبھی شکست نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس اور ہمارے سیکیورٹی ادارے قبائلی اضلاع میں امن وامان قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں، 27 جون کو پشاور میں ہونیوالے جمعیت علماء اسلام کے ہونیوالے جرگہ میں جمعیت اپنا لائحہ عمل تیار کرے گا۔