کراچی(مانند نیوز) عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہاہے کہ موجودہ حالات میں اسلامی قوانین نافذ کرنا بہت مشکل ہے، ملک کا ہر بچہ لاکھوں روپے کا مقروض ہے، ہم آئی ایم ایف کے غلام ہو گئے ہیں، ہمیں ہر قیمت پر مغرب کی غلامی سے نکلنا ہوگا،ہم غلام ہیں تو ہمیں عالمی اداروں کی بات ماننا پڑتی ہے،جر برادری کسی ملک کی اکانومی کی شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں، تاجر فیصلہ کرلیں کہ مقامی برائنڈ کو فروغ دیں گے، ہمیں غیر ضروری غیرملکی پرتعیش اشیا پر پابندی لگانا ہو گی، دشمنوں کی مدد کرنے والی غیر ملکی درآمدات پر پابندی عائد کی جائے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انگریز جو ریلوے لائن ڈال کرگئے، اس کے بعدکوئی لائن نہیں ڈالی گئی، جھیل سیف الملوک کے راستے کو آج تک پکا نہیں کرسکے۔ مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ کون سی قدرتی دولت ہمارے پاس موجود نہیں؟ سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی، جڑ کہاں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن پر الیکشن ہو رہے ہیں، ہر الیکشن میں دھاندلی کے نعرے بلند ہوتے ہیں، اس کے بعد پھر انتخابات کا مطالبہ ہوتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ اس صورت میں گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کے مختلف طبقات وہ ملک کی فلاح و بہبود کے لیے اکٹھے ہوں، اور سوچ کر راہ نکالیں کہ ہم کس طرح اس غلامی سے نکل سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کسی بھی ملک کی شہ رگ ہوتی ہے، اگر تاجر برادری مضبوط ہے اور وہ اپنے سامنے ملک و ملکت کی فلاح و بہبود کا نقشہ رکھتی ہے تو وہ بلآخر سیاست کو بھی مجبور کرسکتی ہے کہ وہ صحیح راستے پر آئے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ دنیا میں تھنک ٹینک طویل المیعاد پالیسز پر غور کرتے ہیں اور اس میں طے کرتے ہیں کہ کس طرح مرحلہ وار آگے بڑھنا ہے۔ ہمارے ملک میں بے شمار مسائل درپیش ہیں، مسائل دیتا ہوں کہ ہماری کرنسی کی صورتحال سب جانتے ہیں اور اس کی وجہ سے زرمبادلہ کی کمی ہے لیکن اس کے باوجود ہم درآمدات پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ عیاشیوں کی چیزیں درآمد ہو رہی ہیں، بے کار چیزیں امپورٹ ہو رہی ہیں، اور اس میں ہمارا زرمبادلہ خرچ ہو رہا ہے، اگر حکومت کی طرف سے درآمد پر پابندی عائد ہوتی ہے تو عالمی طاقتیں درمیان میں آجاتی ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوا ہے، اس کی شرط بھی ہے کہ آپ درآمدات پر پابندی عائد نہیں کرسکتے، لیکن چونکہ ہم غلام ہیں لہذا اس کی شرط کو ہم نے مان لیا لیکن عوام پر کونسی پابندی ہے کہ وہ درآمدی اشیا استعمال کریں؟ تاجروں پر کونسی پابندی ہے کہ وہ امپورٹیڈ مصنوعات خریدیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تحریک چلائی جائے کہ تاجر حضرات غیر ضروری اور عیاشی والی درآمدی مصنوعات کو اپنے پاس نہیں رکھیں گے، جن پر ہمارا زرمبادلہ ضائع ہو رہا ہے اور درآمدی چیزیں نہیں منگوائیں گے، خاص طور پر ایسی اشیا جو دشمنوں کی مدد کر رہی ہیں، جو مسلمانوں کا گلا کاٹ رہے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حکومت اگر پابندی عائد کرے گی تو بین الاقوامی طاقتیں روک دیں گی، اگر تاجر اور عوام یہ فیصلہ کر لے کہ ہم نے درآمدی مصنوعات استعمال نہیں کرنیں، تو درآمدی اشیا آنا بند ہو جائیں گی۔