وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے ڈبکوٹ میں محکمہ صحت کی سنگین غفلت کی وجہ سے مقامی ڈسپنسری تباہ حالی کا شکار ہے۔ بنیادی سہولیات کا فقدان، ادویات کی عدم دستیابی، اور کلاس فور عملے کی غیر حاضری یہاں معمول بن چکی ہے، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے علاج کی امید لیے آنے والے مریض مایوس ہوکر بغیر علاج واپس جانے پر مجبور ہیں۔ ڈسپنسری کی عمارت اور چار دیواری خستہ حالی کا شکار ہیں، جسے دیکھ کر محکمہ صحت کی بے اعتنائی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تین سال قبل حکومت نے اس ڈسپنسری کے لیے نئی عمارت کی تعمیر کے منصوبے پر کروڑوں روپے کی منظوری دی تھی، مگر اس منصوبے کی تکمیل تاحال نہیں ہوسکی ہے۔ اس سنگین صورتحال نے علاقے کے عوام کو شدید برہم کر دیا ہے، جنہوں نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل نظراندازی کے باعث وہ صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد ہی مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔