شانگلہ(مانند نیوز)کانکنی شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کن مزدوروں کے لیے موت کا کنواں بن گیا، ملک بھر میں جہاں بھی کوئی کان میں حادثہ ہوتا ہیں شانگلہ کا مزدور ضرور شامل ہونا لمحہ فکریہ ہیں۔ روا ں سال جان بحق ہونے والی کان کن مزدوروں کی تعداد دو درجن سے تجاوز کر گئی۔ کانکنی کے دوران مسلسل اموات شانگلہ کے مکینوں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کیونکہ ائے روز یہاں ملک کے کسی بھی کونے میں ہونے والے حادثے میں شانگلہ کے مزدور شامل ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے جاری ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ شانگلہ جس کی کل آبادی کے 65 فیصد سے زائد کا دارومدار صرف اور صرف کانکنی سے ہیں کا ن کنوں کیلئے شانگلہ میں نہ تو کوئی ہسپتال، سکول نہ کوئی اور متباد ل اینڈسٹری یا روزگار۔ ضلع شانگلہ جو بالائی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل صوبہ خیبر پختون خواہ کے شمال میں واقع ایک انتہائی پسماندہ ضلع ہے کہ مکین دہائیوں سے کانکنی کے صنعت سے وابستہ ہیں کیونکہ اس علاقے میں کوئی روزگار فیکٹری یا انڈسٹری سمیت کوئی بڑا تجارتی زرائع موجود نہیں۔ نسل در نسل کان کنی سے وابستہ ایک خاندان نے بتایا کہ ان کے کو ئلہ کان میں چار امواتیں ہوئی ہیں جس میں دو سگے بھائی بھی شامل ہیں اور ہمارے خاندان کے پچیس افراد کان کنی سے وابستہ ہیں۔اس میں سے ایک کان کن یار زادہ نے اپنی داستان سناتے ہوئے کہا کہ کوئلے کے کانوں سے اس کے دادا،چچا اور پھر والد وابستہ رہے اور ان کو پیپڑوں، کمر،سینے اور دیگر سخت امراض جو کوئلہ کے کانوں کی وجہ سے ہوئی تھی 42 سال کی عمر میں ان کے والد کو لگی تھی اور وہ پھر مزدوری کرنے کے پوزیشن میں نہیں تھے تاہم ان کے بڑے بھائی یار یوسف نے یہ کام سنبھالا اور بلوچستان کے علاقے شاہرگہ میں جا کر کان میں مزدوری شروع کی۔یار زادہ بتاتے ہیں کہ وہ بھی چل بسے جس کے بعد میرے بتھیجوں یعنی یار یوسف کے بیٹوں،اور میرے بیٹوں نے کوئلہ کے کانوں میں کام کرنا شروع کیا جس میں اس کا بھتیجہ بیٹے اس کے ساتھ صوبہ سندھ کے علاقہ حیدرآباد اینڈس میں کام کرتے تھے جس دوران انہوں نے انڈس کے مختلف علاقوں میں اپنے رشتہ داروں سمیت علاقے کے لوگو ں ا ور پورے شانگلہ کی زخمی اور میتوں کی ریکوری اور منتقلی کا کام انتہائی نزدیکی سے دیکھا وہ اب کہتے ہیں کہ ان کی عمر تقریبا 43 سال ہے اور وہ پیپڑوں، کمر اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو چکا ہے ان سے ہمارے ٹیم نے تفصیلی بات چیت کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ اگر ضلع شانگلہ میں کوئی انڈسٹری فیکٹری یا متبادل کوئی روزگار ہوتا تو شانگلہ سے تعلق رکھنے والی ایک بہت بڑی تعداد جو ائے روز کوئلہ کانوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں شاید اپنے گھر کے دہلیز پر کام کرتے مگر بدقسمتی اس بات کی ہے کہ شا نگلہ میں کوئی متبادل روزگار نہیں تو ایک بہت بڑی تعداد رزق حلال کی کمائی کے لیے ہزاروں فٹ گہرائی میں کام کرنے پر مجبور ہے۔ یار ز ادہ سے ملاقات کے دوران ان کے دیگر ساتھیوں جو کوئلہ کان کنی سے وابستہ ہے نے اپنی اپنی داستانیں سنائی اور کہا کہ ان کی انے والی نسلیں کان کنی سے وابستہ اس لیے ہوں گے کہ یہاں کوئی روزگار نہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شانگلہ کے بہت بڑی تعداد کوئلہ کان سے وابستہ ہے تا ہم ان کے علاج معالجہ کے لیے شانگلہ بھر میں کوئی ہسپتال موجود نہیں خاص طور پر گردوں، پھیپڑوں کا مر ض اور دیگر امراض کانکنی کے دوران مزدوروں کو لاحق ہوتی ہے ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کے لیے شا نگلہ میں کوئی سکول موجود نہیں جو شروع سے ان کے بچوں کو ہنر یا متبادل کام سکھائیں۔ شانگلہ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی مسلسل اموات اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ لوگ نسل دا نسل بے روزگاری کے عالم میں یہ اقدام کرتے ہیں اور بعض نے یہ بھی بتایا کہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کان میں پانی، زہریلی گیس موجود ہیں مگر وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ کام کرتے ہیں کیوں کہ یہ مائن میں نہ صرف وہ بلکہ دیگر مزدور کام کرتے ہیں اور متعلقہ محکمہ اس معاملے میں ٹھیکیدار اور کمپنی کی پشت پناہی کرتی ہے انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا اس لیے بھی ہے کہ با اثر لوگ غیر قانونی مائننگ کرتے ہیں اور اس میں محکمہ اس کے ساتھ ہوتی ہے جس میں اکثر محکمے کے افسران اور اہلکارران،متعلقہ ٹھیکیدار کے پارٹنر ہوتے ہیں۔ غیر قانونی مائننگ کے حوالے سے صوبائی حکومت نے کہیں بار قانون سازی کی ہے مگر اس پر عمل درامد نظر نہیں ارہا۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والی سیاسی لوگ حادثے کے بعد معمول کے مطابق سیاسی بیانات دیتے ہیں اور بعد میں کوئی بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا جو یہاں سے منتخب اراکین کے لیے باعث شرم ہیں۔۔