شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ کے صدر مقام الپوری اور مضافاتی علاقوں میں بجلی بندش کا سلسلہ نہ تھم سکا، ہر ایک گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ تو ہے ہی مگر سردیوں کی شدت زیادہ ہوتے ہی معمولی پارٹ پر کئی کئی گھنٹے بجلی بندش اب معمول بن چکا ہیں۔ نئے ٹرانسمیشن لائن کو بجلی منتقل ہونے کے باوجود مسلسل بجلی بندش اور بار بار پارٹ سمجھ سے بالاتر ہیں۔ مین لائن سے پہلے پیسکو والوں کے موقف ہوتی کہ1992 میں لگا لائن بوسیدہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پالٹ اتے ہیں مگر 2023 میں لگنے والا لائن جو جو جولائی سے پہلے مکمل اور اس پر بجلی منتقل کر چکے ہیں کہ باوجود مسلسل پارٹ کے بہانے بجلی بندش اب شانگلہ کے صدر مقام الپوری اور مضافات کے مکینوں کا مقدر بن چکاہیں۔ شانگلہ میں گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے کے بجلی کا لوڈ شیڈنگ انتہا کو پہنچ گیا ہے اور اکثر اوقات بجلی بندش کا دورانیہ 15 گھنٹے سے بھی تجاوز کر جاتا ہے جب کہ ہر ایک گھنٹے بعد بجلی بندش 15 مہینوں سے زائد سے جاری ہیں تا ہم اب صورتحال یہ ہیں کہ ائے روز نئے بچھائے گئے مین ٹرانسمیشن لائن پر پارٹ ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے دن میں کئی گھنٹے اور پورا رات بجلی بند رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے شانگلہ میں سردی بڑھتے ہی مختلف علاقوں کے ٹرانسفر خراب ہو جاتے ہیں جس کو مقامی لوگ اپنے چندوں سے دوبارہ ریپیئر کرتے ہیں۔ کوٹکی گریڈ سٹیشن سے الپوری تک نیا ٹرانسمیشن لائنز کو بجلی سپلائی منتقل ہو چکی ہے تاہم اس پر بھی ائے روز پارٹ ہوتے ہیں پہلے جب معمولی بارش ہوتی تھی تو شانگلہ کے مختلف علاقے تاریکیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور پیسکو حکام اس حوالے سے بتاتے تھے کہ 1992 میں الپوری تک بچھانے والی لائن بوسیدہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اس پر بار بار فالٹ اتے ہیں اور اکثرا وقات مین ٹرانسمیشن لائن کی تارے بھی ٹوٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے الپوری اور درجنوں مضافاتی علاقوں کو بجلی کی ترسیل معطل ہو جاتی ہیں تا ہم اب نیا ٹرانسمیشن لائن بچانے کے باوجود بجلی بندش اوپڈ ااور پیسکو کیلئے سوالیہ نشان ہے کیونکہ ہر ایک گھنٹے بعد لوڈ شیڈنگ تو ہے ہی اب مسلسل بجلی بندش یہاں کہ تاجروں اور عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں شانگلہ جو خان خوڑ ڈیم سے سو میگا واٹ بجلی پیدا کرتی ہے جبکہ کروڑا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ تکمیل کے اخری مراحل میں داخل ہے جو تقریبا 15 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گی جبکہ پوری شانگلہ کی ضرورت صرف اٹھ میگا واٹ تک ہیں ضرورت اس عمل کی ہے کہ حکومت کو شانگلہ جیسے بالائی علاقوں جہاں گیس اور دیگر سہولت موجود نہیں کو صرف لائٹ کے لیے مقامی وسائل آبی سے پیدا ہونے والی بجلی سے مفت اور رعایتی بجلی دینے کی اشد ضرورت ہیں۔۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے