وانا (مانند نیوز) احمد زائی وزیر قبائل کے سرکردہ عمائدین نے سابق ممبر قومی اسمبلی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے نمایاں رہنما علی وزیر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو ان کے خلاف بے بنیاد مقدمات اور ظالمانہ رویوں کو فی الفور ترک کرنے کی تلقین کی ہے۔ ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبائل کے سرکردہ رہنماؤں، جن میں ملک جانباز خان وزیر، ملک ثنا اللہ، ملک صالح محمد وزیر، ملک تاجی خان، ملک نصیب خان، ملک مائزار خان، ملک خان بہادر اور دیگر شامل تھے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے علی وزیر کے ساتھ ناانصافی کی انتہا کر دی ہے۔ انھیں جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں ملوث کر کے عدالتی نظام کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے۔ عمائدین کا کہنا تھا کہ جب ایک عدالت سے علی وزیر کو ریلیف ملتا ہے تو انہیں دوسرے جھوٹے مقدمات یا تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ ملک کی سالمیت اور عدلیہ کے وقار کے لیے بھی مضر ہے۔ عمائدین نے واضح کیا کہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران علی وزیر نے کلیدی کردار ادا کیا، مگر موجودہ حکومت ان کی قربانیوں کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ اس کے برعکس، انھیں چہار صوبوں کی عدالتوں میں گھسیٹ کر اذیت دی جا رہی ہے، جو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ عمائدین نے حکومت اور مقتدر حلقوں پر الزام عائد کیا کہ وہ علی وزیر کے ساتھ غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے وعدوں کی تکمیل نہیں کی اور علی وزیر کے معاملے پر مایوس کن کردار ادا کیا۔ قبائلی رہنماؤں نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر علی وزیر کو جلد رہا نہ کیا گیا تو احمد زائی وزیر قبائل احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیں گے، جو پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔