کرم (مانند نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹرڈاکٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپورضلع کرم میں دائمی امن کا خواہاں ہے اوروہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ ضلع کرم میں مزید خونریزی ہوں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے کرم میں دیرپا اورپائیدار امن کے قیام اوربحالی کیلئے ان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی ہے جس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم،چیف سیکرٹر ی، آئی جی پی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم،کمشنرکوہاٹ اورڈی آئی جی کوہاٹ کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان بھی شامل ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت گرینڈ جرگہ اورفریقین کے تجاویزاورسفارشات پرعملدرآمد کرائے گی۔ان خیالات کااظہار انہوں نے منگل کی رات کمشنرہاؤس کوہاٹ میں گرینڈ جرگہ اورضلع کرم کے فریقین کے مشترکہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اخترحیات گنڈاپور،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم عابد مجید، کمشنر کوہاٹ ڈویژن سید معتصم باللہ شاہ اورڈی آئی جی کوہاٹ شیر اکبر خان کے علاوہ ضلع کرم کے اہلسنت اوراہل تشیع کے مشران اورانتظامی افسران بھی موجو د تھے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ ضلع میں دائمی امن وہاں کے مقامی لوگوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں لہٰذا امن کے قیام کیلئے آپ لوگ حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں۔انہوں نے کہا کہ انسان کا دشمن جنگ نہیں بلکہ نفرت ہے اورجنگ تو صرف اس نفرت کا اظہار ہے۔اس لئے ضرور ت اس امر کی ہے کہ تمام نفرتوں کو ختم کرکے محبت کو عام کریں۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین جنگ اوربدامنی نہیں چاہتے بلکہ چند شرپسند عناصر کے مفادات جنگ سے وابستہ ہیں۔ ایسے عناصر کی نشاندہی ہم سب کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ انہیں کیفر دار تک پہنچایاجاسکے۔ بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ کرم میں امن کیلئے مری معاہدہ بنیادی دستاویز ہے اوروہاں کے امن کیلئے اس پر عملدرآمد ضروری ہے۔ان کا کہناتھا کہ صوبائی حکومت قومی شاہراہ کو محفوظ کرکے جلد از جلد کھولنا چاہتی ہے اورانشاء اللہ اسے جلد کھولا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی احکامات کے تحت وہاں پر تمام مورچے ہمیشہ کیلئے مسمار کریں گے۔اسی طرح وہاں کے محصور لوگوں کو نکالنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پشاور تا پارا چنار ایئر سروس کا آغاز بھی زیر غور ہے۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ کرم کا مسئلہ صرف وہاں کے مقامی لوگوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے اوراس کا جلد از جلد حل پورے خطے کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ آئیں آج ہم سب مل کر عہد کریں کہ آنے والے نسلوں کیلئے یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مستقبل بنیادوں پرحل کریں اوربھائی بھائی بن کرایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔انہوں نے کہا کہ امن کیلئے جہاں کہیں بھی ان کی ضرورت ہوں وہ وہاں جانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔