شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ ایکشن کمیٹی کے ذیر اہتمام شانگلہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے واقعات،دہشت گردی میں مسلسل اضافے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ۔ شرکا ء کی جانب سے سخت نارا بازی کی گئی، پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا یھا ہم اپنے وطن میں آمن چاہتے ہیں۔مظاہرے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماء، سٹوڈنٹ فیڈریشنز،انجمن تاجران، ٹرانسپورٹ یونین اتحاد، مختلف علاقوں کے مشران اور عوام سڑکوں پر نکل آے۔ شانگلہ میں دہشت گردی کے بڑھتی ہوئی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مقررین نے واضح کیا کہ شانگلہ پرامن علاقہ ہے اس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات ناقابل برداشت ہے اور اب مزید اپنے پیاروں کے جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں۔ لگ رہا ہے کہ شانگلہ میں فورسز امن کی بحالی میں ناکام ہیں مگر شانگلہ کے عوام کسی بھی قیمت اپنے سرزمین پر مزید دہشت گردی یا ایسے واقعات کی اجازت نہیں دے سکتے جو یہاں کا امن خراب کرے یا کسی کی لیے جان لیوا ثابت ہوں۔ گنگر پولیس پوسٹ حملے کا ذکر کرتے ہوئے مقررین نے شدید تنقید کی اور کہا کہ پہلے چیک پوسٹ آبادی میں تھا بعد میں انہیں یہاں منتقل کر دیا گیا حملہ اور منتقلی کے تحقیقات کی جائے۔مقررین نے واضح کیا کہ ایک طرف دریائے سندھ ہے دوسری طرف پہاڑ ہے دہشت گرد کہا گئے سوال کیا یہ کون ہے کہاں سے ائے ان کے ڈی این اے کیے جائے خون موجود ہے جو متعلقہ اداروں نے وہاں سے حاصل کیے ہیں۔ شانگلہ میں گزشتہ کہیں مہینوں سے پولیس پر حملے ہو رہے ہیں جبکہ متبادل کوئی موثر کاروائی نظر نہیں ارہی جس پر نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ شانگلہ بھر کے لوگوں کا شدید تحفظات ہے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں عوام میں سخت غم وغصہ پایا گیا جس میں نعرے لگائیں۔ مقررین نے کہا کہ کسی کے مخالف نہیں تا ہم شانگلہ میں امن کی بحالی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا مقررین نے کہا کہ پولیس کے ساتھ ہے یہ اعلان کرے اپنے اسلحہ اور گولی سے اس کے شانہ بشانہ ہوں گے اور یہاں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائی کریں گے۔ احتجاجی مظاہرے سے شانگلہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی واقف شاہ ایڈوکیٹ،عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء متوکل خان ایڈووکیٹ، قومی وطن پارٹی کے رہنماء شاہ سعود ایڈووکیٹ، پی ٹی آئی رہنماء تحصیل چیئرمین بشام حا جی سدیدالرحمان، تحصیل چیئرمین الپوری وقار احمد خان، جمیعت علماء اسلام کے رہنماء عماد احمد خان، معروف قانون دان سلطان روم ایڈووکیٹ،فیض محمد خان پاپا، اے این پی رہنماء الطاف حسین ایڈووکیٹ،محمد ذادہ ودیگر مشران نے تفصیلی خطاب کیا۔ ایکشن کمیٹی کے کال پر ہیڈ کوارٹر بازار کی مارکیٹس مکمل طور پر شٹر ڈاؤن رہے ایکشن کمیٹی کے کال پر احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی۔مقررین کا کہنا تھا کہ شانگلہ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، مسلسل دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ۔ بے گناہ پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کہ مزید متحمل نہیں ہو سکتے، شانگلہ امن کا گہوارہ ہے کسی صورت یہاں بد امنی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ عوام متحد ہیں۔ پولیس کے ساتھ مل کر شانگلہ میں بدامنی کے خلاف جہاد کریں گے۔دراثناء جمعے کے روز مختلف جامعہ مساجد میں گننگر پولیس پوسٹ میں شہید اسسٹنٹ سب انسپکٹرمحمد حسن خان، ہیڈ کانسٹیبل نثار خان کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت جب کہ زخمیوں پولیس جوانوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ ایکشن کمیٹی کی کال پر منعقد امن مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ شانگلہ میں امن بحال کیا جائے جس میں مقامی لوگ اپنی پولیس کے ساتھ ہوں گے۔ کوئی بھی فرد اپنے سرزمین پر دہشت گردی اور بد امنی برداشت نہیں کر سکتا اور وہ اپنے وطن کے خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز سے مل کر شانگلہ ملٹنس والے علاقے میں بلا تفریق کاروائی کرے عوام شانہ بشانہ ہوں گی۔۔