وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل وانا کے علاقے کاریز کوٹ گنگی خیل کے معززین نے ایک بیان میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان کا علاقہ صحت عامہ کی بنیادی سہولیات سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنوبی وزیرستان لوئر کے مختلف علاقوں میں پرائم این جی او (PRIME NGO) کی جانب سے ہر ماہ طبی کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں عوام کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ اقدام علاقے کے عوام کے لیے ایک عظیم نعمت اور صحت کے شعبے میں بہتری کا ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔تاہم، کاریز کوٹ گنگی خیل کے معززین کا کہنا ہے کہ ان کا علاقہ اس تمام عمل میں مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے، جو کہ ایک سنگین ناانصافی ہے۔ عمائدین کے مطابق پرائم این جی او کی ٹیمیں دیگر علاقوں میں جا کر عوام کی خدمت انجام دے رہی ہیں، لیکن کاریز کوٹ گنگی خیل کے رہائشیوں کو ان سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو ان کے جائز حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔معززین نے اس موقع پر ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر ناصر خان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کشمیر خان، اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور پرائم این جی او کے ذمہ داران سے پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کاریز کوٹ گنگی خیل کے مسائل پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرائم این جی او کی ٹیموں کو اس علاقے میں بھیجا جائے تاکہ یہاں کے غریب اور مستحق عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔کاریز کوٹ گنگی خیل کے معززین نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے علاقے کے باشندے بھی اسی طرح کے بنیادی حقوق کے مستحق ہیں جیسے دیگر علاقوں کے لوگ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے کے مسائل کو مزید نظرانداز کرنا ایک ناقابلِ برداشت عمل ہوگا۔ عمائدین نے کہا کہ کاریز کوٹ گنگی خیل کے مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے اور یہاں کے عوام کو وہی سہولیات مہیا کی جائیں جو دیگر علاقوں کے لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔