وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں احمد زئی وزیر کے نو بڑے قبائل کا ایک عظیم الشان گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں تمام قبائل کے سرکردہ عمائدین، علمائے کرام اور کاروباری شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جرگے میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ انگوراڈہ گیٹ اور وہاں آباد احمد زئی وزیر قبائل کے مفادات اور مسائل کے حل کے لیے تمام قبائل مشترکہ کوششیں کریں گے۔ اس کے علاوہ، بارڈر پر آباد افراد کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ انگوراڈہ گیٹ کو مستقل بنیادوں پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھنے کے لیے تمام قبائل اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے، کیونکہ یہ گیٹ احمد زئی وزیر قبائل کے معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مزید برآں، یہ بھی طے پایا کہ احمد زئی وزیر کے مفادات کے خلاف سازشیں کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی مشران اور علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا کہ انگوراڈہ کے آر پار آباد قبائل کو گیٹ کے ذریعے آمد و رفت میں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ برمل کے علاقے میں آباد قبائل کی حب الوطنی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ انگوراڈہ کے مقامی افراد نے ہمیشہ ملکی سلامتی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور بیرونی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ افغانستان کے اندر وزیر قبائل کی حب الوطنی بے مثال ہے، اور انہوں نے پاکستان کے دفاع میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ جرگے کے شرکاء نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وزیر قبائل کو انگوراڈہ گیٹ پر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، تاکہ ان کے معاشی اور سماجی مسائل کا ازالہ ممکن ہو سکے۔