شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ پریس کلب و شانگلہ یونین آف جرنلسٹ کا پیکا قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری،متنازع قانون کو مسترد کر دیا ہیں۔ صحافی برادری ایسے کسی بھی قانون کو نہیں مانتے جو بنیادی انسانی حقوق،اظہار رائے اورآزادی صحافت کی بنیادی حقوق اور آواز کی پامالی ہو۔شانگلہ پریس کلب و شانگلہ یونین آف جرنلسٹ کے صحافیوں نے دوران رپورٹنگ بازوں پر کالی پٹیا باندھ کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا جبکہ شانگلہ پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم بدستور لہرا رہا ہیں۔ پیکا جیسے متنازعہ قوانین انسانی حقوق کی خلافت بھی ہیں صحافی تنظیمیں یہ روش مزید برداشت نہیں کر سکتی مرکزی حکومت پیکا قانون پر نظر ثانی کرتے ہوئے صحافی تنظیموں کو اعتماد میں لے کر تبدیلی کریں۔ شانگلہ پریس کلب کے آ حتجاجی تقریب میں صحافیوں نے بازو ں پر کالی پٹیاں باندھ کر رپورٹنگ کی اس موقع پر شانگلہ پریس کلب کے صدر آفتاب حسین،شانگلہ یونین اف جرنلسٹ کے نائب صدر محمد یونس،شانگلہ پریس کلب کے انفارمیشن سیکرٹری افتخار حسین،یونین اف جرنلسٹ کے انفارمیشن سیکرٹری صابر حسین شاہ،شانگلہ یونین اف جرنلسٹ کے نائب صدر انور حسین، جوائنٹ سیکرٹری ابرار حسین،شانگلہ پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری عصمت علی اور دیگر صحافیوں نے شرکت کی اور پیکا قانون کے خلاف مرکزی اور صوبائی قائدین کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نہ صرف صحافی بلکہ عام شہریوں کی آزادی اظہاررائے کی پامالی کی بات ہیں موجودہ حالات میں کوئی بھی صحافی آزادی سے اپنے خدمات سرانجام نہیں دے سکتا اور وہ شدیدبے چینی کی عالم میں ہے۔ جب سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتی ہے تو ایسے قوانین کی وہ مخالفت کرتی ہے اور جب وہ حکومت میں اتی ہے تو سب سے پہلے وہ صحافیوں پر وار کرتی ہیں۔