اسلام آباد (مانند نیوز)خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان تراکئی کی زیر صدارت آج مشترکہ تعلیمی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے میں جاری تعلیمی منصوبوں، مستقبل کے اہداف اور حکومت کے وژن پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر بتایا کہ رواں سال تعلیم کے بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جو حکومت کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کارڈ انیشی ایٹو کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 1500 پرائمری اسکول آؤٹ سورس کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ کے داخلوں میں اضافے کے لیے 3 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اور کرایہ کی عمارتوں میں قائم اسکولوں کے لیے نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے تاکہ مستقل عمارتوں کی تعمیر کا انتظار کیے بغیر فوری طور پر تعلیمی سہولت فراہم کی جا سکے۔ یونیسف کے تعاون سے 20 اضلاع میں 1200 اساتذہ کی بھرتی کی جائے گی جبکہ رحمت اللعالمین اسکالرشپس کے تحت 10 ہزار طلبہ پہلے ہی مستفید ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک سمسٹر سسٹم کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ نظامِ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔وزیر تعلیم نے بتایا کہ اساتذہ کی تربیت کے لیے کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ ایم او یو پر دستخط ہو چکے ہیں جبکہ اساتذہ کے لیے لائسنسنگ سسٹم اور لازمی تربیت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ تبادلوں میں شفافیت کے لیے ای-ٹرانسفر سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور سیلاب متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں تاکہ انہیں جلد از جلد دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے کلائمٹ آگاہی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل کو ماحولیات کے تحفظ کی تعلیم دی جا سکے۔اجلاس میں وزیر تعلیم نے ضلع بونیر کے ایک پرنسپل کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے بروقت کارروائی کے ذریعے 950 طلبہ کی جان بچائی، اور اسے ایک غیر معمولی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال داخلوں میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے داخلہ مہم دو ہفتے تک بڑھا دی گئی ہے۔اجلاس کے اختتام پر وزیر تعلیم فیصل خان تراکئی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا وژن ہر بچے کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔