اسلام آباد (مانند نیوز)پاکستان میں سیلاب سے نقصانات کے تخمینے کے لیے مردم شماری اور زرعی شماری کا ڈیٹا استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

حکومت نے ملک میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کے لیے جدید طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے لیے مردم شماری، زرعی شماری اور اکنامک سینسز سے حاصل ڈیٹا اور سافٹ ویئر استعمال کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زرعی شماری کے ڈیٹا سے فصلوں اور مویشیوں (لائیو اسٹاک) کو پہنچنے والے نقصانات کا تجزیہ کیا جائے گا جبکہ اکنامک سینسز سے انفرا اسٹرکچر اور کاروبار کی تباہی کا اندازہ لگایا جائے گا۔

دریائے سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ جاری

حکام کے مطابق حالیہ اکنامک سینسز کے دوران ملک بھر کی عمارتوں کو جیو ٹیگ کیا گیا تھا، جس کی بدولت بزنس سینٹرز، اسکول، کالجز، جامعات اور مساجد سمیت دیگر عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی درست تفصیلات سامنے لائی جاسکیں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ اضلاع، بلاکس اور گاؤں کی سطح پر سیلابی نقصانات کے تخمینے میں یہ ڈیٹا مددگار ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اس جدید نظام کے ذریعے نقصانات کے تخمینے کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے