وانا (مانندنیوز) دو سال سے بند پاک افغان بارڈر انگور آڈہ گیٹ بالآخر آج باقاعدہ طور پر کاروبار سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ گیٹ کے دوبارہ کھلنے سے جہاں تجارتی سرگرمیوں کو نئی جان ملے گی، وہیں مقامی عوام بھی معاشی فوائد کے منتظر ہیں۔ افتتاحی تقریب میں رکنِ قومی اسمبلی زبیر وزیر اور ڈپٹی کمانڈر خمرانگ بریگیڈ شریک ہوئے۔ تقریب میں اسکول کے بچے، علما کرام اور قبائلی عمائدین بڑی تعداد میں موجود تھے، جس سے محفل کا منظر انتہائی پرجوش اور تاریخی ہوگیا۔ تاہم تقریب کا ایک پہلو خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا کہ مقامی سیاسی قائدین کو مدعو نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے پر علاقے میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں۔ انگور آڈہ گیٹ کے دوبارہ کھلنے سے نہ صرف پاک افغان تجارتی تعلقات میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے بلکہ یہ اقدام سرحدی علاقے کے عوام کے لیے بھی امید کی نئی کرن ثابت ہوگا۔ تاہم اس موقع پر مقامی سیاسی قیادت کی غیر موجودگی نے کئی سوالیہ نشان ضرور کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر اس اہم دن پر انہیں کیوں نظر انداز کیا گیا؟ آپ کے خیال میں مقامی قیادت کو اس تقریب کا حصہ بنانا چاہیے تھا یا نہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔