اسلام آباد (مانند نیوز)ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بوتل کا پانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عام طور پر لوگ ہر سال تقریباََ 39 ہزار سے 50 ہزار مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کھاتے ہیں جب کہ بوتل کے پانی پر انحصار کرنے والے لوگوں کے جسم میں مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کی تعداد 90 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔

مائیکرو پلاسٹک کے ان ذرات کو انسانی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہے کیونکہ یہ سائز میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں، یہ سائز میں ایک مائیکرون سے 5 ملی میٹر تک کے ہوتے ہیں جب کہ نینو پلاسٹک کے ایک مائیکرون سے چھوٹے ہوتے ہیں۔

پلاسٹک کی بوتلوں سے سورج کی روشنی اور درجہ حرارت کی تبدیلی کے دوران مائیکرو پلاسکٹ کے ذرات نکلتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ہلکی کوالٹی کی پلاسٹ سے بنایا جاتا ہے۔

مذہبی عقائد و روحانیت کا کینسر کے علاج میں اہم کردار ہے، تحقیق میں انکشاف

اس تحقیق کی سربراہ سارہ ساجدی کے مطابق مائیکرو پلاسٹک کے یہ ذرات جسم کے اندر خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور بڑے اعضاء تک پہنچ سکتے ہیں اور ان کی جسم میں موجودگی دائمی سوزش، سیلولر آکسیڈیٹیو اسٹریس، ہارمونز کی پیداوار میں خلل، تولیدی مسائل، اعصابی کمزوری اور کینسر جیسے مرض میں مبتلا کر سکتی ہے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ محدود تحقیق اور مائیکرو پلاسٹک کے اثرات کی پیمائش کے معیاری طریقوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ابھی بھی ان کے صحت پر پہنچنے والے طویل مدتی اثرات کو پوری طرح سے سمجھا نہیں گیا ہے۔

سارہ ساجدی نے کہا کہ پلاسٹک کی بوتلوں سے پانی پینا ہنگامی حالت میں ٹھیک ہے لیکن انہیں روزمرہ کی زندگی میں معمول نہیں بنایا جانا چاہیے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے