پشاور (مانند نیوز) خیبر پختونخوا حلال فوڈ اتھارٹی کے زیر اہتمام عالمی یوم خوراک کے حوالے سے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے شعبہ فوڈ اینڈ نیوٹریشن سائنسز میں ورلڈ فوڈ ڈے کے حوالے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار میں طلبہ و طالبات، فیکلٹی ممبران، فوڈ سیفٹی افسران اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کا مقصد عوام، بالخصوص نوجوان نسل کو محفوظ، معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور ملاوٹ جیسے سنگین سماجی مسئلے کے خاتمے کے لیے شعور پیدا کرنا تھا۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر خیبر پختونخوا حلال فوڈ اتھارٹی رقیہ نواز خان نے اپنے تفصیلی خطاب میں کہا کہ خوراک کا معیار صرف صحت کا نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے ذہنی و جسمانی استحکام کا ضامن ہے۔ آج جب مارکیٹ میں مختلف اشیائے خوراک دستیاب ہیں، تو ضروری ہے کہ ہم صرف حلال، معیاری اور محفوظ خوراک کا انتخاب کریں۔ فوڈ اتھارٹی دن رات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے کہ عوام کو ملاوٹ سے پاک خوراک فراہم ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ملاوٹ مافیا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو صرف چند روپوں کے لالچ میں عوام کی صحت سے کھیلتا ہے، مگر خیبر پختونخوا حلال فوڈ اتھارٹی کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔رقیہ نواز نے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ بھی اپنے اردگرد لوگوں میں آگاہی پھیلائیں، تاکہ محفوظ خوراک کے کلچر کو عام کیا جا سکے۔ انہوں نے کہااگر ہم سب اپنی ذمہ داری سمجھ کر صحیح خوراک کے انتخاب کو اپنی عادت بنا لیں تو نہ صرف بیماریاں کم ہوں گی بلکہ ایک صحت مند اور باشعور قوم کی بنیاد رکھیں گے۔سیمینار سے فوڈ سیفٹی آفیسر طلحہ اور جواد نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ اتھارٹی کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر ہوٹلز، بیکریز، دودھ فروشوں، اور دیگر فوڈ پوائنٹس کی چیکنگ کرتی ہیں تاکہ عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ڈائریکٹر اسپورٹس عبدالولی خان یونیورسٹی ڈاکٹر فاروق حسین نے کہا کہ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی عوامی صحت کی حقیقی محافظ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند خوراک ہی ایک مضبوط جسم اور متوازن ذہن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک کے معیار پر سمجھوتہ دراصل اپنی اور اپنی نسلوں کی صحت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف وہی اشیائے خوراک استعمال کریں جو حلال فوڈ اتھارٹی کے معیار پر پوری اتریں۔سیمینار کے اختتام پر طلبہ و طالبات نے سوالات بھی کیے جن کے جوابات فوڈ اتھارٹی کے افسران نے تفصیل سے دیے۔