پبی (نما ئندہ مانند )نیشنل انفلوئنسرز نے شہید بے نظیر ویمن یونیورسٹی کے اشتراک سے فریڈم پچ 2025 کا کامیابی سے منعقد کیا۔ اس دو روزہ ایونٹ میں پاکستان بھر سے 300 سے زائد طلبہ و طالبات، نوجوان کاروباری افراد، ماہرین تعلیم اور مختلف شعبوں کے پیشہ ور افراد نے شرکت کی۔ یہ پروگرام دوست ویلفیئر آرگنائزیشن، مکہ ایجنسی، SEED اور سٹوڈنٹس فار اکنامک اینڈ سوشل افیئرز (SESA) کے تعاون سے منعقد ہوا اور نوجوانوں کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ریگولیٹری چیلنجز پر روشنی ڈالنے اور جدید کاروباری سٹریٹیجیز کو فروغ دینے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم ثابت ہواایونٹ کے پہلے روز ممتاز مقررین نے عملی تربیتی سیشنز پیش کیے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر صفیہ احمد (تمغہ امتیاز)، وائس چانسلر؛ بینظیر یونیورسٹی ڈاکٹر رضا اللہ، چیئرمین مینجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ، اسلامیہ کالج و یونیورسٹی پشاور؛ عاطف شہزاد، سی ای او مکہ ایجنسی؛ عدنان جلیل، سی ای او الجبران انٹرپرائزز؛ اور طاہرہ کلیم، کنسلٹنٹ برٹش کونسل شامل تھے۔ مقررین نے اہم موضوعات پر گفتگو کی، جن میں نوجوانوں کو پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹوں سے آزاد کرنا، نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے والوں سے روزگار پیدا کرنے والوں میں تبدیل کرنا، پاکستان کے کاروباری ماحول میں اصلاحات، بیوروکریٹک پیچیدگیوں پر قابو پانا اور کاروباری مواقع پیدا کرنے کے لیے ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا شامل تھا۔ ان تمام سیشنز کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی اس بات سے منسلک ہے کہ نوجوانوں کو کاروبار کے شروع کرنے اور ریگولیٹری رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے ایونٹ کے دوسرے روز نیشنل انفلوئنسرز نے ڈاکٹر ایمن بٹلر کی کتاب "Introduction to Economic Schools of Thought” کے اردو ترجمے معاشی مکاتب فکر کی لانچنگ کی، جس کا مقصد طلبہ، محققین اور پالیسی سازوں میں معاشی فہم کو بڑھانا ہے۔ اس کے بعد فریڈم پچ اسٹارٹ اپ مقابلہ منعقد ہوا جس میں دس فائنلسٹ نوجوان کاروباری افراد نے اپنے کاروباری ائیڈیاز پیش کیے۔ ججز کے پینل میں چیف سمیڈا راشد امان، ڈائریکٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد خان، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایکسپرٹ و انفلوئنسر آغا مصطفیٰ، سی ای او بٹ کوڈر لیبز پرائیویٹ لمیٹڈ داؤد شاہ اور بینظیر یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر اور سربراہ مینجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر سعدیہ عزیز شامل تھیں۔ سخت مقابلے کے بعد مانسہرہ کے گورنمنٹ کالج آف مینجمنٹ سائنسز کی مصباح جاوید خٹک نے اپنے اسٹارٹ اپ "سیرن سپ ہربل ٹی” کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی اور 1 لاکھ روپے کا انعام جیتا۔ شہید بے نظیر ویمن یونیورسٹی کی ہاجرہ علی نے اپنے کاروباری آئیڈیا "کلایمٹ گارڈین” کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی اور 50 ہزار روپے کا انعام جیتا۔ ججز نے تمام شرکاء کے کاروباری خیالات کی عملی پہلوؤں اور سماجی اثرات کی تعریف کی اختتامی خطاب میں نیشنل انفلوئنسرز کے صدر محمد سلیمان نے مہمان مقررین، ججز، شرکاء اور مقابلے میں حصہ لینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسے پروگرام پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا عملی حل پیش کرتے ہیں۔ محمد سلیمان نے کہا کہ ہر سال ہزاروں، لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کرکے سرکاری ملازمت کے لیے مارکیٹ میں آتے ہیں، جبکہ حکومت کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ سب کو روزگار فراہم کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح ضرورت سے زیادہ قواعد و ضوابط اور سرکاری پیچیدگیاں نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے سے روک رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریگولیٹری بوجھ میں کمی کی جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں نوجوان کی کاروبار شروع کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکیں اور حکومتوں پر نوکریاں دینے کا بوجھ کم ہوسکے۔ ان کے مطابق اگر نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والوں میں تبدیل کیا جائے تو نہ صرف معاشی ترقی ممکن ہے بلکہ ملک میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے فریڈم پچ 2025 کا اختتام ججز کے اختتامی کلمات کے ساتھ ہوا، جنہوں نے اس ایونٹ کو نوجوانوں کی معاشی بااختیاری اور کاروباری ترقی میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ دو روزہ پروگرام نے کامیابی کے ساتھ معاشی شعور کو فروغ دیا، طلبہ و پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو مضبوط بنایا، اور نوجوان کاروباری افراد کو اپنے خیالات کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ نیشنل انفلوئنسرز نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایسے