پشاور ( ) جنرل سیکرٹری اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا ہے کہ پاکستان کا نظامِ تعلیم شدید بحران کا شکار ہے اور بدقسمتی سے تعلیم حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ خیبر پختونخوا میں پچاس لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ جامعات کی فیسوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث متوسط طبقے کے بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ مانسہرہ ڈویژن کے زیرِ اہتمام منعقدہ احباب کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، سابق ناظمِ اعلیٰ شکیل احمد، ناظم صوبہ خیبر پختونخوا اسفندیار عزت اور صدر احباب ڈاکٹر محمد خان نے بھی خطاب کیا۔ صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی کے باعث طلبہ کے پاس اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا کوئی مؤثر پلیٹ فارم موجود نہیں۔ جامعہ پشاور سمیت صوبے کی مختلف جامعات ہر سال مالی بحران کا شکار رہتی ہیں۔ جامعہ پشاور میں اساتذہ کو دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث اساتذہ احتجاج پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی درجہ بندی کی ٹاپ 300 جامعات میں پاکستان کی ایک بھی یونیورسٹی شامل نہیں، جو ہمارے تعلیمی نظام کی زبوں حالی کا واضح ثبوت ہے۔ پاکستان کا نوجوان اور طالب علم شدید مایوسی کا شکار ہے۔ دسمبر 2025 کی لیبر رپورٹ کے مطابق ملک میں 80 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں، جن میں 10 لاکھ ڈگری ہولڈر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نوجوانوں کو مقصدِ حیات کا شعور دیتی ہے اور انہیں زندگی کے حقیقی مقصد سے روشناس کراتی ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ بلاشبہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ایک کامیاب اور روشن تجربہ ہے۔ انہوں نے کارکنانِ جمعیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں ٹیکنالوجی کی صورت میں مختلف چیلنجز موجود ہیں۔ مشکلات اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خود کو تیار کرنا ہوگا۔ کارکنانِ جمعیت کو علم، دلیل اور مضبوط بیانیے کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ جمعیت نے ماضی میں تحریکِ ختمِ نبوت ہو یا طلبہ حقوق کی جدوجہد، ہر تحریک میں صفِ اوّل کا کردار ادا کیا ہے اور آج بھی تحریک کی پشت پناہی کے لیے تیار ہے اور آئندہ بھی ملک کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس موقع پر ناظم مانسہرہ ڈویژن عمیر علی بھی موجود تھے۔کنونشن میں کثیر تعداد میں احبابِ جمعیت نے شرکت کی۔