اسلام اباد ( نمائندہ مانند)خیبر پختونخوا کے ضلع مالاکنڈ میں طالبات کو بلیک میل کرنے اور جنسی ہراسانی کے سنگین الزامات میں ملوث پروفیسر عبدالحسیب کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ منگورہ بینچ کی جانب سے دی گئی ضمانت کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا اور ملزم کو فوری طور پر جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ فروری 2025 میں یونیورسٹی آف مالاکنڈ میں ہراسانی اور پردہ پوشی کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس میں چھٹے سمسٹر کی اردو کی ایک طالبہ کی شکایت پر پروفیسر عبدالحسیب کے خلاف جنسی ہراسانی، نازیبہ تصاویر و ویڈیوز بنانے اور بلیک میلنگ کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔متاثرہ طالبہ کی درخواست پر لیویز مالاکنڈ نے مقدمہ درج کر کے پروفیسر کو گرفتار کیا تھا، تاہم معاملے کو دبانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ بعد ازاں میڈیا میں انکشافات کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔اسی دوران سوشل میڈیا پر پروفیسر کی مبینہ مارپیٹ کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔ یونیورسٹی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ایسے واقعات میں سخت قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، اس قسم کے جرائم ہوتے رہیں گے۔پشاور ہائی کورٹ منگورہ بینچ نے بعد میں پروفیسر کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا، جس پر متاثرہ طالبہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم جاری کر دیا۔متاثرہ طالبہ نے ایف آئی اے سے بھی انصاف کی درخواست کر رکھی ہے جبکہ کیس کئی روز تک قومی میڈیا کی زینت بنا رہا۔