پشاور(مانند نیوز)خیبر پختونخواہ میں لائیو سٹاک سیکٹر، ڈیری فارمرز نازک دور سے گزر رہے ہیں۔ فارمرز کو کاسٹ آف پروڈکشن کے مطابق ریٹ نہیں ملتا جبکہ جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے کوئی خاص انتظام نہیں۔ صوبہ موذی بیماری منہ کھر کا اپنا پلانٹ تک میسر نہیں۔ مقامی سطح پر منہ کھر ویکسین کا پلانٹ لگانا وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔ صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر ایف ایم ڈیfmd پلانٹ کا لگانے کا حکم کرے۔ عوام کو خالص دودھ، گوشت تب میسر ہوگا جب سارے کام قانون کے مطابق ہوں۔ ایکسپورٹ کو توجہ دی جائے، لاکھوں لوگ بر سر روزگار ہو جائیں گے۔ محمد آصف خان اعوآن، صوبائی صدر لائیو سٹاک فارمرز ویلفیر ایسوسییشن اینڈ لائیو سٹاک کوپریٹو سوسائٹی خیبر پختونخواہ۔اس سلسلے میں صوبائی صدر محمد آصف خان اعوآن نے اپنے بیان میں کہا کہ پشاور سمیت خیبر پختونخواہ میں فارمرز حکومت اور ڈیپارٹمنٹ کی سرپرستی سے محروم ہیں۔ کوئی پرسان حال نہیں نہ جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل ہے نامناسب ریٹ ہے، نہ کوئی حکمت عملی،افسران کی مراعات میں کمی کی جائے۔ سرکاری گاڑیوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے۔ تمام افسران سے ایک سے زائد گاڑی واپس لی جائے۔ سیکرٹری لائیو سٹاک کے تمام اقدامات کی تعریف کی گئی ہے۔ محمد آصف خان اعوآن نے سیکرٹری لائیو سٹاک خیبر پختونخواہ سے اپیل کی ہے کے فارمرز کے لیے ویکسین اور میڈیسن کا شفاف طریقے سے اجازت نامہ جاری کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹ افسران کی مراعات میں کمی کی جائے ان کے ساتھ احتساب کیا جائے۔ غریب فارمرز کو ویکسین میڈیسن اور علاج سے محروم رکھنا کوئی تبدیلی نہیں۔ ایسوسییشن ہر قسم تعاون کے لیے تیار ہے۔