اسلام آباد (مانند نیوز)جرمنی میں ملازمین کی غیر حاضری کی بڑھتی شرح کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے ایک سخت تجویز پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت بیماری کے پہلے ہی دن کی تنخواہ کاٹنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جرمن چانسلر فریڈرچ مرز اس منصوبے پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد یورپ میں بلند ترین غیر حاضری کی شرح کو کم کرنا ہے۔

اس تجویز کے تحت معمولی بیماری جیسے نزلہ زکام کی صورت میں بھی ملازمین کو فوری چھٹی لینے کے بجائے کام جاری رکھنے کی ترغیب دی جائے گی۔

کونسا ملک سب سے زیادہ سالانہ اوسط تنخواہ ادا کرتا ہے؟

جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامی کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ملازمین سالانہ اوسطاً 14.8 دن بیماری کی چھٹی لیتے ہیں، جو برطانیہ کے اوسط 4.4 دن سے 3 گنا زیادہ ہے، اس بڑھتی غیر حاضری کے باعث جرمن کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 82 ارب یورو کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

اپنی ایک حالیہ تقریر میں فریڈرچ مرز نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے صرف ورک لائف بیلنس یا 4 روزہ ورک ویک کافی نہیں ہو گا بلکہ مزید محنت کرنا ہو گی۔

یہ تجویز تاحال زیرِ غور ہے اور اس کے نفاذ کے حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن جاری نہیں کی گئی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے