پشاور( مانند نیوز) کانسپٹ اے آئی کے سی ای او عارف خان اتوزئی نے کہا ہے کہ دنیا میں حقیقی تبدیلی صرف نئے سافٹ ویئرز، ایپس یا جدید ٹولز کی بدولت نہیں آ رہی بلکہ کامیابی اُن ممالک، اداروں اور نظاموں کا مقدر بن رہی ہے جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کو اپنی کارکردگی، فیصلہ سازی، پیداواری صلاحیت اور انسانی مہارتوں کی ترقی کا مستقل حصہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے آرٹیفشل انٹیلی جنس علی ڈار اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ملاقات میں پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے فروغ، نوجوانوں کی تربیت، جدید مہارتوں کی تیاری اور ادارہ جاتی نظام کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔عارف خان اتوزئی نے کہا کہ دنیا تیزی سے ایک نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مصنوعی ذہانت نہ صرف کاروباری ڈھانچے بلکہ معیشت، تعلیم، صنعت، صحت اور حکومتی نظام کو بھی نئی شکل دے رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی نوجوان آبادی، تخلیقی صلاحیتوں اور انسانی وسائل کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ کر ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے۔انہوں نے کہا کہ خوش آئند امر یہ ہے کہ اب پالیسی ساز حلقوں میں گفتگو صرف مصنوعی ذہانت کے تعارف یا آگاہی تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی اقدامات، مہارت سازی، ٹیکنیکل ٹریننگ اور مستقبل کی افرادی قوت تیار کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ سوچ کانسپٹ اے آئی کے وژن سے مکمل مطابقت رکھتی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کیلئے تیار کرنا اور انہیں عالمی معیار کی ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوان باصلاحیت، پُرجوش اور جدت پسند ہیں، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے مضبوط اور مؤثر نظام تشکیل دیے جائیں جو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت، جدید مواقع اور عملی نتائج کے ساتھ منسلک کر سکیں۔ اگر بروقت منصوبہ بندی، جدید تربیت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی جائے تو پاکستان مصنوعی ذہانت کے میدان میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہو سکتا ہے۔عارف خان اتوزئی نے مزید کہا کہ آنے والا وقت اُن قوموں کا ہوگا جو تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے خود کو وقت سے پہلے تیار کریں گی۔ مصنوعی ذہانت اب محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، روزگار اور قومی ترقی کی بنیاد بنتی جا رہی ہے، اس لیے پاکستان کو بھی اس عالمی تبدیلی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا۔