وانا (مانند نیوز ) جنوبی وزیرستان لوئر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور دیگر دہشت گردی کے واقعات کے خلاف بدھ کے روز وانا میں وزیرستان قومی امن جرگہ منعقد ہوا۔ جرگے میں منتخب عوامی نمائندوں، سیاسی جماعتوں کی ضلعی قیادت، سول سوسائٹی کے نمائندوں، نوجوانوں، سماجی کارکنوں، قبائلی عمائدین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔جرگے کے شرکاء نے خطے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ امن کے فروغ اور عوامی مشاورت کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے 14 جون بروز اتوار ایک بڑا وزیرستان قومی امن جرگہ منعقد کیا جائے گا۔جرگے کے شرکاء نے سپورٹس سے وابستہ معروف فٹبالر سبیل نور کی فوری اور محفوظ بازیابی کا پُرزور مطالبہ کیا۔ سبیل نور کو گزشتہ روز ڈوگ فٹبال گراؤنڈ سے اغوا کیا گیا تھا، جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔جرگے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران وانا اور جنوبی وزیرستان لوئر میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک رہی ہے۔ اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عوام شدید خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بدامنی نے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔شرکاء نے کہا کہ آئے روز پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ تاجر، طلبہ، مزدور اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ امن کے بغیر ترقی اور خوشحالی کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔جرگے میں مختلف آراء پیش کرتے ہوئے شرکاء نے تجویز دی کہ امن کے فروغ اور عوامی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، بالخصوص قبائلی عمائدین سے گھر گھر جا کر ملاقاتیں کی جائیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد عوامی مشاورت کو فروغ دینا اور امن کے قیام کے لیے ایک مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل دینا ہوگا، تاکہ تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر ایک مؤثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔شرکاء نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بدامنی کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں، جن کے باعث عوام میں عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔جرگے کے اختتام پر وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ جنوبی وزیرستان لوئر میں قیامِ امن کے لیے فوری، مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات کیے جائیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ علاقے کے عوام مزید بدامنی اور خونریزی کے متحمل نہیں ہو سکتے اور امن کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔جرگے سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی زبیر وزیر، رکن صوبائی اسمبلی عجب گل وزیر سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطابات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام تک جرگوں اور مشاورتی نشستوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین، سیاسی قیادت، سماجی تنظیموں، عوامی نمائندوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ایک متفقہ اور جامع لائحۂ عمل ترتیب دیا جائے گا تاکہ جنوبی وزیرستان کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔جرگے کے اختتام پر شرکاء نے متفقہ طور پر 14 جون بروز اتوار کو وزیرستان قومی امن جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا، جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، عوامی تجاویز اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے