شیرگڑھ (اجمل خان)خیبر پختونخوا کے تمباکو کاشتکاروں اور ایکسپورٹرز نے حکومت کی موجودہ ٹیکس پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے "ٹیکس پر ٹیکس” اور ہزاروں خاندانوں کا معاشی قتل عام قرار دیا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو کے شعبے پر عائد غیر ضروری اور امتیازی ٹیکسوں کا فوری خاتمہ کیا جائے تاکہ ملکی برآمدات اور مقامی روزگار کو تحفظ مل سکے۔کاشتکاروں کے رہنماؤں کے مطابق، تمباکو واحد زرعی فصل ہے جس پر کاشت سے لے کر فروخت تک 11 مختلف اقسام کے ٹیکسز لاگو ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے لگایا گیا 27.50 روپے فی کلو گرام ٹوبیکو سیس کے ساتھ ساتھ 50 روپے فی کلو کے حساب سے ایک اور الگ ٹیکس بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔تمباکو ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے گلہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں خیبر پختونخوا کے اس اہم ترین سیکٹر کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کپاس کاشت کرنے والے کسانوں اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بجلی، گیس اور برآمدی ڈیوٹی میں اربوں روپے کی مراعات دی جا رہی ہیں، جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے تمباکو سیکٹر پر مراعات دینے کے بجائے ۔ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں برآمدات کو فروغ دینے کے لیے انہیں ٹیکس فری کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں تمباکو کی ایکسپورٹ پر بھی بھاری ڈیوٹیز عائد ہیں، جس سے ملکی تمباکو بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مسابقت کھو رہا ہے۔ان کا کہناتھا کہ اعداد و شمار خود اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تمباکو سیکٹر پاکستان کی معیشت میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بڑے شعبوں میں سے ایک ہے۔تمباکو کاشتکاروں، ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز نے مشترکہ طور پر وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمباکو پر عائد صوبائی سیس اور اضافی ٹیکس فوری واپس لیا جائے، اور ایکسپورٹرز کو دیگر برآمدی شعبوں کی طرح سہولیات دی جائیں تاکہ ملکی زرِمبادلہ میں اضافہ ہو اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار محفوظ رہ سکے-