وانا (مانند نیوز ) ریدور سپر لیگ 2026 کا سنسنی خیز فائنل میچ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، جس میں بادشاہ خان کرکٹ کلب نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضوان کرکٹ کلب کو شکست دے کر ٹورنامنٹ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔فائنل میچ کے مہمانِ خصوصی چیئرمین بدلون ویلفیئر ایسوسی ایشن صفت اللہ وزیر تھے، جنہوں نے کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین صفت اللہ وزیر نے کہا کہ کھیلوں کی سرگرمیاں کسی بھی معاشرے کے لیے خوش آئند اور ترقی کی علامت ہوتی ہیں۔ ایسے ایونٹس نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرتے ہیں بلکہ علاقے میں امن، بھائی چارے اور باہمی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریدور سپر لیگ جیسے کامیاب ٹورنامنٹس اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ علاقے کے عوام اور نوجوان امن پسند ہیں اور کھیلوں سمیت دیگر مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنے علاقے میں خوشحالی اور استحکام چاہتے ہیں۔چیئرمین صفت اللہ وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی راغزائی کے نوجوان مناسب سہولیات اور کھیل کے میدانوں سے محروم ہیں اور ایک برساتی نالے میں کرکٹ کھیلنے پر مجبور ہیں، جو متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا واضح ثبوت ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان، خیبرپختونخوا حکومت اور بالخصوص اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ راغزائی کے نوجوانوں کے لیے ایک معیاری کرکٹ گراؤنڈ تعمیر کیا جائے تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے بہتر مواقع میسر آسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان کے نوجوان بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، تاہم مناسب سہولیات کی فراہمی اور سرکاری سرپرستی کے بغیر ان کی صلاحیتیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بدلون ویلفیئر ایسوسی ایشن مستقبل میں بھی نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی۔فائنل میچ کے اختتام پر چیئرمین صفت اللہ وزیر نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں اور ٹیموں میں انعامات تقسیم کیے۔ اس کے علاوہ بدلون ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹورنامنٹ کے لیے بطور خصوصی انعام ہونڈا 125 (ماڈل 2026) موٹرسائیکل بھی پیش کی گئی، جسے شرکاء اور شائقینِ کرکٹ نے بے حد سراہا۔علاقے کے عوام نے بدلون ویلفیئر ایسوسی ایشن اور چیئرمین صفت اللہ وزیر کی جانب سے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔دریں اثناء تماشائیوں اور مقامی نوجوانوں نے سپورٹس آفیسر جنوبی وزیرستان لوئر اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نئے گراؤنڈز کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کیے جا سکیں۔