اسلام آباد (مانند نیوز ) وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی حکومت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ منگل کو سینٹ اجلاس کے دوران سینیٹر عطا الرحمن کے توجہ دلانوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں سیلز ٹیکس کے حوالے سے گزشتہ سال ایک طویل سیاسی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا جس کا مقصد ٹیکس نظام میں توازن برقرار رکھنا اور میکس استثنیٰ کے غلط استعمال کو روکنا تھا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ رواں سال اسے بڑھا کر 12 فیصد کیا گیا، اس کے باوجود یہ شرحملک کے دیگر علاقوں میں نافذ 18 فیصد سیلز ٹیکس سے کم اور ترجیحی شرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے قبل فاٹا ، پاٹا اور خیبر پختونخوا کے نمائندوں، متعلقہ سیاسی رہنماں اور ایف بی آر حکام کے درمیان تفصیلی مشاورات ہوئی تھی ، اس عمل کی قیادت اس وقت رانا ثناء اللہ نے کی جبکہ امیر مقام اور متعلقہ حکام بھی مشاورت میں شریک تھے۔ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فاٹا کے لیے ٹیکس استثنیٰ کا مقصد علاقے کی مخصوص محرومیوں اور مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاں کے عوام اور کاروبار کو سہولت دینا تھا ، تاہم اس استثنیٰ کے غلط استعمال کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کاروباری نمائندوں اور چیمبرز سے بھی یہ شکایات سامنے آئیں کہ فاٹا اور پاٹا کے نام پر ٹیکس استثنیٰ کا غلط فائدہ اٹھایا گیا اور ایسی اشیاء اور کاروبار بھی استثنیٰ میں شامل کیے گئے جن کا تعلق ان علاقوں سے نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فاٹا اور پاٹا کے عوام کے مخصوص مسائل اور ضروریات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔