تخت بھائی (مانند نیوز ڈیسک) تخت بھائی میں اے این پی نے مہنگائی کے خلاف بڑا مظاہرہ کردیا۔ عوامی نشنل پارٹی کی قیادت کی ہدایات پر مہنگائی کے خلاف احتجاجی پروگرام کے تخت اے این پی تحصیل تخت بھائی کے زیر اہتمام مہنگائی کے خلاف تخت بھائی مین مردان ملاکنڈ روڈ پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔، ہاتھوں میں مہنگائی کے خلاف بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے تھے۔ جن پر حکومت اور مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے. احتجاجی مظاہرے میں تاجر برادری سمیت اے این پی کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس دوران ہرقسم ٹریفک کے لئے روڈ مکمل طور پر بلاک کردیا گیا۔مین مردان ملاکنڈ شاہراہ پر احتجاجی جلسے سے عوامی نشنل پارٹی کے تحصیل صدر ملک امان خان، سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن حاجی فاروق اکرم خان۔ضلع مردان کے قائم مقام صدر محمد جمال باچہ ایڈوکیٹ۔ضلعی ایڈشنل جنرل سیکرٹری جواد ٹکر۔ضلعی ترجمان جمال ناصر۔سابق صوبائی نائب صدر حاجی جاوید یوسفزئی۔سابق ضلعی جنرل سیکرٹری میاں طاہر ایڈوکیٹ۔صوبائی کونسل کے اراکین ایوب یوسفزئی۔ناصر خان۔ پختون ایس ایف کے چییرمین حقنواز ایڈوکیٹ۔جنرل سیکرٹری مقصود خان ایڈوکیٹ تحصیل سیکرٹری اطلاعات حاجی غلام رسول بار کے صدر قمرزمان ایڈوکیٹ، اے این پی ملک ارشاد خان اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمرتوڑ مہنگائی کی وجہ سے عوام خودکشیوں پر مجبور ہو چکی ہے ملک میں جاری مہنگائی کی وجہ سے غریب عوام اور مزدور کار طبقہ نہایت متاثر ہورہا ہے۔ پٹرولیم۔آٹا، چینی، چاول، دالیں اور دیگر اشیائے خوردونوش عوام کی دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ مدینہ ریاست عوام پر مہنگائی کی بم گرانے سے نہیں بنتی بلکہ عوام کو ریلیف دینے سے بنتی ہے مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بڑھتی مہنگائی کو جلد از جلد قابو کر لے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔اور کہا کہ موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے خلاف اواز اٹھانا جھاد ہے۔جو وقت کی اھم ضرورت اور پوری قوم کی اواز ہے۔ملکی سیاسی جماعتوں سے پہلے اے این پی قیادت نے اس کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کرکے قوم کی جزبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے۔جس سے غریبوں محنت کشوں کے دلوں میں سلیکٹیڈ حکمرانوں کا بسترہ گول کرنے کا وقت قریب ارہا ہے۔ کیونکہ موجودہ مہنگائی غریب عوام کے ساتھ ظالمانہ اقدام ہے اور عوامی نیشنل پارٹی مہنگائی کے خلاف اس وقت تک اپنا جنگ جاری رکھے گی جب تک ظالمانہ مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کا بند نہ ہو – اور ہم بجلی گیس اور مختلف اشیاء خورد و نوش کے قیمتوں میں اضافے کو بھی مسترد کرتے ہیں –