سخاکوٹ (مانند نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی آمیر سینیٹر مولانا عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور پورے ملک کو جس مقام پر لاکھڑا کیا گیا ہے اس کو دوبارہ سنھبالنے میں طویل عرصہ لگے گا۔ بد قسمتی سے ملک ایسے لوگوں کے حوالہ کیا گیا جس کا بُرا حشر آج ہر کوئی دیکھ رہا ہے ۔8سال کے اقتدار میں موجودہ حکمرانوں نے صرف ایک کام کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے نئی نسل کو عریانی اور فحاشی کے ذریعے تباہی،بر بادی کے راستے پر لگادیا ہے۔ اسمبلیوں معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے جعلی اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں حالانکہ حال یہ ہے کہ ملک کو جھوٹے باتوں اور غلط پروپیگنڈوں سے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بیرونی اشاروں اور اسٹبلشمنٹ کے ذریعے ملک پرایسے لوگوں کومسلط کیا گیا جو اپنے گھر چلانے کے بھی اہل نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سخاکوٹ ملاکنڈ ہاؤس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر حاجی فدا محمد کے بیٹے انجینئر احتشام فدا خان کی درجنوں ساتھیوں اور کارکنوں کے ہمراہ جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کے موقع پر ایک بڑے اجتماع اور سابق ناظم حق نواز خان ایڈوکیٹ کے حجرے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع سے جمعیت علماء اسلام ملاکنڈ کے ضلعی آمیر مفتی کفایت اللہ،حق نواز خان ایڈوکیٹ، سابق سینیٹر صاحبزادہ خالد جان، سابق ممبرقومی اسمبلی مولانا محمد قاسم، تحصیل آمیر مولانا حبیب الحسین،سابق ناظم حق نواز خان ایڈوکیٹ،سلمان تاثیر، فرید اللہ خان چیئرمین اور سعد جمیل خان سمیت دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر انصاف ویلفیئر ونگ کے ضلعی صدر حاجی محمد طارق، سابق اُمیدوار تحصیل کونسل حاجی احسان اللہ خان، نائب ناظم ویلج کونسل نرے اوبو سلیم خان،پی پی پی کے رہنماء گل زمان خان شینگرئی، یونین کونسل ہیروشاہ کے عبد الغفار خان، یوسف خان، عمران خان، خائستہ رحمان، گل نواب، زاہد خان، ماساز خان، ایوب خان،پاکستان مسلم لیگ کے حاجی شیر محمد، ڈاکٹر محمد افضل، آمیر افضل، ولید خان اور باسط افضل خان آف خانگھڑئی سمیت درجنوں کارکنوں نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی اور مرکزی و صوبائی قائدین پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے احتشام فدا خان نے کہا کہ ہم نے جس سوچ اور فکر کیساتھ پی ٹی آئی کا ساتھ دیا تھا وہ محض ایک سیراب تھا اس لئے ساتھیوں اور کارکنوں سمیت مستعفی ہو کر جمعیت علماء اسلام میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کررہے ہیں۔ مولانا عطاء الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکمران ایک سازش اور بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت آتے تھے جن کی کوشش تھی کہ ختم نبوتﷺ قانون میں یا آئین پاکستان ختم کی جائے لیکن جمعیت علماء اسلام نے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے نام پرپندرہ ملین مارچ کئے اور سازشی منصوبوں کو خاک ملا دیا اورلاکھ کوششوں کے باوجود ناموس رسالتﷺ قانون میں ایک حرف کی ترمیم نہیں جاسکی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود جمعیت علماء اسلام نے ناموس رسالت ﷺ کے نام پر نکلنے اور عوام میں جانے کا فیصلہ کیا جس پر عوام نے بھر پور طریقے سے لبیک کہا جس سے عالمی ایجنڈے کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام کیساتھ جھوٹے وعدے کئے جس کی وجہ سے اب عوام کے غیض و غضب کا سامنا نہیں کرسکتے جبکہ بلدیاتی انتخابات میں بات اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ کوئی اُمیدوار پی ٹی آئی کا ٹکٹ لینے کے لئے تیار نہیں تھا اور پی ٹی آئی قائدین گھر گھر جاکر لوگوں کو ٹکٹ دینے کی منت کرتے تھے لیکن اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا اور انشاء اللہ بلدیات کے دوسرے مرحلے میں بھی انہیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملاکنڈ کے غیو ر عوام ثابت کرینگے کہ ملاکنڈ جمعیت علماء اسلام کا مضبوظ گڑھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں ختم کئے گئے لیکن تنظیمیں ختم کرنے سے حقائق چھپائے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال قبل جمعیت علماء اسلام نے جو بیانیہ عوام کے سامنے رکھا تھا اس پر آج بھی قائم و دائم ہیں کہ موجودہ حکومت دھاندلی، بیرونی اشاروں، پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور جعلی مینڈیٹ کی پیداوارہے جن میں عوام کے مسائل حل کرنے کی اہلیت و صلاحیت نہیں ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام نے پندرہ ملین مارچ کرکے ثابت کردیا کہ عوام کی اصل طاقت جمعیت علماء اسلام کے پاس ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین اور مسلط ٹولے کو یہ بات تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم اس ملک کو چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اس لئے اپنے نا اہلی کا اعتراف کرتے ہوئے عوام کو مذید تباہی و بربادی میں دھکیلنے کی بجائے خود مستعفی ہو جائیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے