چترال (مانند نیوز ڈیسک) چترال کے مضافاتی علاقے گان کورینی میں ایک امریکی شہری فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کررہاہے۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہوٹل پر کام شروع کرتے وقت ان کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی چادر اور چاردیواری کی تقدس کا حیال رکھا جائے گا مگر ہوٹل چوتھے منزل پر پہنچ کر اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ہوٹل کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں مگر ہماری گھروں کا پردے کا حیال رکھا جائے تاکہ خواتین بلا جھجھک اپنا کام کاج رکھ سکے۔۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ہوٹل کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ہماری گھروں کی طرف کھڑکیاں، دروازے نہ بنایا جائے یا ہماری گھروں کی پردے کیلئے چاردیواری تعمیر کی جائے۔ سابق تحصیل ناظم اور جامع مسجد گان کورینی کے پیش امام مولانا محمد الیاس نے یہ بھی انکشاف کیا چترال زلزلے کے لحاظ سے ریڈ زون میں شامل ہے اور ہوٹل کی تعمیر کے وقت ان کے پاس بلڈنگ اتھارٹی اور متعلقہ اداروں کی منظوری بھی نہیں تھی۔ جب ہم نے ان کے حلاف درخواست دی تو اس کے بعد اس کی Approval لیا گیا۔ علاقے کے لوگوں نے اپنی چادر اور چاردیواری کی تحفظ کیلئے عدالت سے حکم امتناعی بھی لیا تھا گمر اس کے باوجود بھی کام جاری رہا اور عدالتی حکم کی بھی دھجیاں اڑادی گئی۔ان لوگوں کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہماری چادر اور چاردیواری کی تقدس کا حیال رکھا جائے۔ چونکہ چترال میں مال مویشی پالنے اور ان کیلئے گھاس کاٹنا زیادہ تر خواتین کرتی ہیں۔ اگر یہ ہوٹل مکمل ہوا تو یہاں غیر ملکی اور غیر مقامی سیاح آیا کریں گے اس وقت ان کی خواتین نہ تو گھروں میں جھاڑو لگاسکیں گے، نہ کپڑے دھونے کے بعد چھتوں پر ڈال سکیں گے اور نہ مویشی خانہ جاسکیں گے۔ ان لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں ساری رات یہاں کام جاری رہتا ہے او ر مزدور اونچی آواز میں موسیقی لگاتے ہیں جبکہ کام کی شور شرابے سے ان کی نیند حراب ہوتی ہے اور اس کی تعمیر سے گرد وغبار سے ہمارا برا حال ہوا ان سب تکالیف کو بھی ہم برداشت کرنے کو تیار ہیں مگر ہم اپنی عزت کو پامال نہیں کرسکتے۔ لوگوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ ہوٹل کے مالک بااثر شحصیت ہے اس کی افتتاح کیلئے وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری چترال آئے تھے اور یہ لگتا ہے کہ ان کی اثر و رسوح کی وجہ سے ادارے اس کے حلاف کوئی کاروائی نہیں کرتی۔ہمارے نمائندے نے ہوٹل کے مالک کا بھی موقف جاننے کی کوشش کی مگر وہ چونکہ امریکہ میں مقیم ہے اسلئے ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔ گان کورینی کے ستر گھرانے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور اعلےٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ ہوٹل کے مالک کو پابند کیا جائے کہ ہماری چادر اور چاردیواری کا لحاظ رکھتے ہوئے ہوٹل تعمیر کیا جائے اور ہماری عزت اور سکون کو برباد نہ کیا جائے۔ واضح رہے کہ یہاں کے ستر گھرانے اس ہوٹل کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں کرتے مگر ان کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کی چادور اور چاردیواری کا حیال رکھا جائے کیونکہ ان کے خواتین نہ گھروں میں جھاڑو دے سکتی ہیں، نہ کپڑے چھت پر ڈال سکتے ہیں اور نہ مویشی حانہ جا سکتی ہیں۔ ان لوگو کا کہنا ہے کہ ہوٹل کی کھڑکیاں، دروازے ان کی گھروں کی بجائے دوسری جانب بنایا جائے تاکہ ان کیلئے پریشانی کا باعث نہ ہو اور ان کو احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔