جمرود (مانند نیوز ڈیسک) جمرود کا سب سے بڑے زمینی تنازعہ کے حل کے لیے تحریک استحکام پاکستان کے مشران کے زیر انتظام جرگہ متحریک ہوگیا اور اس تنازعہ کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے۔استحکام پاکستان کے بانی محمد واصل خان،ترجمان ولی افریدی،صیفت اللہ افریدی،محمد عاقیل خان،عابد آفریدی نے جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمرود کے علاقے شاہ کس میں کوکی خیل کے دو ذیلی قبیلوں ابراہیم خیل اور اسماعیل خیل کے مابین کئی سالوں سے جاری زمینی تنازعہ کے حل میں پیش رفت ہوئی ہے اور تمام فریقین پیمائش کے لیے راضی ہوگئے ہیں جبکہ اس تنازعہ میں معدنیات کے پہاڑ اور راستے بھی بند ہوچکے تھے جس میں استحکام پاکستان کا نمائندہ جرگہ اس تنازعہ کے حل کے لیے متحرک ہوگئی اور اس مسئلے و تنازعہ کو حل کرنے کے لیے جرگہ کرنے کے لیے راضے ہوگئے اور سات جون کو اس مسئلے کے حل کے لیے اراضی کو برابر تقسیم کرنے کے لیے اراضی کی پیمائش کا سلسلہ سات جون کو شروع کردی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی تیسری فریق کو کوئی اعتراض ہوں تو وہ استحکام پاکستان کے جرگہ ممبران کو اپیل یا درخواست کرسکتے ہیں ان کے اپیل جرگہ ممبران قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تنازعہ جمرود کا سب سے بڑا زمینی تنازعہ ہے جن کے حل کے لیے پیش رفت ہوئی ہے جس میں جمرود کے قبائیلی مشران،پولیس اور انتظامیہ نے تعاون کیا اور کامیابی میں پیش رفت ہوئی ان معدنیات کے پہاڑ کی بندش سے سینکڑوں مزدور بے روزگار ہوچکے تھے جن کو واپس روزگار ہر کردیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ استحکامِ پاکستان کا مقصدِ ریاستی اداروں،انتظامیہ اور عوام کے مابین روابط کو استوار کرنا ہے اور پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ارض پاکستان کو پر امن بنانا ہے اور پاکستان کو سیاسی،معاشی اور معاشرتی طور پر مستحکم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ظالم کا راستہ رکھنا مظلوم کی مدد کرنا،پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا اور ریاستی اداروں اور عوام کے مابین خوشگوار فضا قائم کرنا ہے۔