اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل احمد نے کہا ہے کہ عمران خان کو کرپشن پر ہمیں لیکچر نہیں دینا چاہیے بلکہ چپ رہنا چاہیے جو آدمی توشہ خانہ کی گھڑیاں لے کر چلا گیاہو، جو آدمی 190ملین پاؤنڈ کسی کو واپس کر کے آگیا ہو جس کا ریکارڈاس نے چھپا دیا ہو جس کی بیگم نے پانچ، پانچ قیراط کی انگوٹھیاں منگوائی ہوں اوراس کے منگوانے پر اس نے حکومت کے افسر تبدیل کئے ہوں، اس کو چپ رہنا چاہیے۔مجھے دورہ سعودی عرب کے دوران تین تحفے ملے تھے ایک زیتون کے تیل کی بوتل ملی تھی، ایک کھجور کا ڈبہ تھا اور ایک رولیکس کی گھڑی تھی، زیتون کا ڈبہ میں نے رکھ لیا، کھجور میں پہلے ہی کھا چکا ہوں اور گھڑی میں نے توشہ خانہ میں جمع کروادی ہے۔ہمیں تیل مہنگا کرکے کوئی خوشی نہیں ہوتی بلکہ یہ بہت بری بات ہے، عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں لیکن ہم مجبور ہیں کیونکہ دنیا بھر میں قیمت بڑھ گئی۔ یہ یاد رکھنا کہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول 120روپے فی لیٹر بڑھایا لیکن یہ بھی یاد رکھنا کہ مفتاح نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اور سری لنکا والی حال نہیں کی ہے۔ ان خیالات کااظہار مفتاح اسماعیل نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیااوراس پر دستخط بھی کئے کہ ہم 30روپے لیوی اوراس کے بعد17فیصد ٹیکس لگائیں گے، مطلب یہ کہ آج کی پٹرول کی قیمت پر75روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر80روپے ٹیکس لگنا تھاتاہم میں آئی ایم ایف سے معاہدے میں تبدیلی کراکرآیا ہوں اور اتنا ٹیکس نہیں لگایا جتنا معاہدہ عمران خان اور شوکت ترین نے آئی ایم ایف سے کیا تھا۔ دو روز قبل برینٹ آئل کی قیمت 117ڈالر فی بیرل تھی جو گزشتہ روز 110ڈالر فی بیرل ہو گی اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے مجھے کہا کہ مفتاح کچھ کرو اورپٹرول سستا کرو، اس پر میں نے ان سے کہا کہ اگر برینٹ تھوڑا سا نیچے آجاتاہے تو ہم سستا کردیں گے۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں پرانا ہی مفتاح اسماعیل ہوں اور جو گزارش ہم پہلے کررہے تھے وہی اب بھی کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کو لگا کہ ان کی حکومت جانے والی ہے توانہوں نے آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کو توڑ کر پٹرول سستا کردیا۔ اس کے بعد دنیا میں تیل کی قیمت 120ڈالرفی بیرل ہو گئی جس کی وجہ سے حکومت کو ماہانہ 120ارب روپے کا نقصان ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت جب سے آئی ہے ہم نے پٹرولیم مصنوعات پر ایک روپے ٹیکس نہیں لگایا تھا اور دو روز قبل ہم پٹرول پر10روپے اور ڈیزل پرپانچ روپے پی ڈی ایل ٹیکس لگایا ہے جو کہ پی ٹی آئی کے دور میں 21روپے فی لیٹر تھا۔شوکت ترین نے ڈیزل پر 21روپے فی لیٹر ٹیکس لگایا جبکہ میں نے صرف پانچ روپے ٹیکس لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات پر یا لیوی لگے یا سیلز ٹیکس لگے دونوں چیزیں اکٹھی نہیں لگیں گی۔ میاں محمد شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے سے پہلے میں ان کو بتا چکا تھا کہ یہ ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے اور اس وقت شہباز شریف نے کہا سیاست بھاڑ میں جائے پہلے ہم نے ملک کو بچانا ہے۔ رواں سال جون کے مہینے میں ہمارے دور حکومت میں ایف بی آر نے 763ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا ہے اوراس کے مقابلہ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں کبھی 600ارب روپے کا ہندسہ بھی عبور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت ترین اچھے آدمی ہیں لیکن عمران خان جھوٹے آدمی ہیں۔ شہباز شریف نے مجھے وزیر خزانہ بنایا اور میں نے انہیں اس حوالے کبھی بھی نہیں کہا اور ایک مرتبہ بھی لابی بھی نہیں کروائی، ان کو پتا تھا کہ مفتاح کو بننا ہے۔ حکومت میں آنے سے کچھ دن پہلے شہباز شریف نے مجھے کہا تھا تیاری کر لو،کابینہ بننے سے دو، تین روز پہلے ہی میں نے بطور وزیر خزانہ کام شروع کردیا تھا۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کوئی بھی وزیر، وزیر اعظم کو جوابدہ ہوتا ہے اور وزیر اعظم نے ملک کو جواب دینا ہے، یہ شہباز شریف کا اختیار ہے کہ وہ مجھے وزیر خزانہ رکھنا چاہتے ہیں یا سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو۔ میں وزیر خزانہ ہوں،اسحق ڈار وزیر خزانہ ہوں یا کوئی اور وزیر خزانہ ہو تو میاں محمد نواز شریف، میاں محمد شہباز شریف اورمسلم لیگ (ن)کی اقدار کا اثر تو ہماری پالیسیز میں نظرآئے گا۔ اگر میں یہ سمجھ کر (ن)لیگ میں آیا تھا کہ یہ بہت اچھی سیاسی جماعت ہے تواللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اگر میں یہ سوچتا تھا کہ یہ اتنی اچھی پارٹی توآج یہ اس سے بھی اچھی پارٹی ہے جو پارٹی کو میں نے سوچ کر جوائن کیا تھا۔ اگر وزیر اعظم کہیں کہ میں کسی اور چیز کا وزیر بن جاؤں تو اگر مجھے وہ کام آتا ہو گا تو کرلوں گا ورنہ کوئی زبردستی تھوڑی ہے، سچی بات ہے کہ شہباز شریف کے ساتھ بہت گھنٹے بیٹھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر فیصلہ وزیر اعظم اور کابینہ کی مرضی سے ہوتا ہے، میں جو بھی فیصلے کرتا ہوں ان کے پیچھے 100فیصد کھڑا ہوں اور میرے ہر فیصلے کے پیچھے میرا وزیر اعظم کھڑا ہے۔ جتنی مرتبہ بھی پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے وہ وزیر اعظم کے دستخط سے بڑھتی ہے۔ نواز شریف کی فرنچائز کی وجہ سے ہم سب یہاں بیٹھے ہیں، نواز شریف نہ ہوتے تو (ن)لیگ کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ کچھ میری باتیں آئی ایم ایف نے مانی ہیں اور کچھ آئی ایم ایف کی باتیں میں نے مانی ہیں۔ اگلے توتین مہینے بڑے مشکل ہوں گے لیکن ہم مہنگائی کو قابو میں لے آئیں گے۔ ڈالر کی قیمت کتنی کم ہو گی اس کے حوالے سے میں کوئی پیش گوئی نہیں کروں گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ الیکشن میں دوبارہ جیت کر واپس آئیں اور اگلے پانچ سالوں میں ملک کو میاں نواز شریف کے وژن کے مطابق واپس اس ڈگر پر ڈال دیں جو ڈگر پر ملک ترقی کررہا ہو، مہنگائی کم سے کم ہو، لوگوں کی آمدن زیادہ ہو اور لوگوں کوروزگار مہیا ہو۔14ماہ میں شرح نمو بھی اچھی کرکے دکھائیں گے اور مہنگائی کو بھی قابو کر کے دکھائیں گے۔ جب تک پاکستان آئی ایم ایف سے نہیں نکلے گاتو پاکستان زندگی بھر غریب رہے گا، کوئی بھی فقیر، امیر اور عزت دار نہیں ہوتا۔ آپ نے جا کر آئی ایم ایف کو خیر آباد کہنا ہے، دوسرے ممالک سے مدد کو خیر آباد کہنا ہے، اگر بھارت کے پاس600ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے پاس 9ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں تو میں یہ بالکل پسند نہیں کرتا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے