اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے وزیراعلی پنجاب کے انتخابات سے متعلق تحریری فیصلے میں قراردیا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا انتخاب22جولائی2022 کو پنجاب اسمبلی حال میں ڈپٹی سپیکرکی صدارت میں ہوگا، عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کو تحریک انصاف کے اقلیتی ارکان کے حوالے سے 27مئی کو جاری فیصلے کی تفصیلات ایک ہفتے میں جاری کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن کو فوری طور پر مخصوص نشستوں پر نامزد امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کرے گا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور متعلقہ ریاستی حکام بشمول ممبران پارلیمان صوبائی اسمبلی وزرا ء اور ایڈوائزر یقینی بنائیں گے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی قانون قوانین پر عمل کر رہی ہیں،سیاسی مخالفین اوران کے سپورٹرزکے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی استعمال نہیں کیا جائے گا لوکل انتظامیہ، پولیس،صوبائی الیکشن کمیشن سمیت کسی بھی ادارے میں ٹرانسفر یا پوسٹنگ نہیں ہو سکے گی تاکہ الیکشن ایکٹ 2017 اور ضابطہ اخلاق کے مطابق ضمنی انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیر اعلی پنجاب کے انتخابات سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر یکم جولائی 2022 کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے دس صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جسٹس اعجازالاحسن کی جانب سے تحریرکیاگیا ہے یکم جولائی کو سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل تھے عدالت نے فریقین کے دلائل کو اپنے حصے فیصلے کا حصہ بنانے کے بعد حکم میں لکھا ہے کہ اس معاملہ کے تمام فریقین اور حمزہ شہباز شریف کے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ جاری کیا جا رہا ہے لاہور ہائیکورٹ کے 30 جون کو جاری کیے گئے حکم میں کچھ ترمیم کی جا رہی ہے، فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھاہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کی تجویز کے مطابق وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب(سیکنڈ پول) آئین کے آرٹیکل 130 چار کی روشنی میں 22 جولائی 2022 کو چار بجے پنجاب اسمبلی کی عمارت میں ہوگا اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کی اس تجویز سے حمزہ شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سبطین خان کے وکیل بابر اعوان نے اتفاق کیا۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ جس اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب کیلئے پولنگ ہوگی وہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد خان مزاری کی سربراہی میں ہوگا ڈپٹی سپیکر سیشن بلانے کے لئے باضابطہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کریں گے اور ڈپٹی سپیکرتمام پروسیجرل کارروائی ایک ہفتے کے اندر پوری کریں گے سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے لیے سیکنڈ پول بالکل آئین کے مطابق ہوناچاہیے اس حوالے سے حمزہ شہباز شریف نے عدالت کے سامنے حلفا کہا ہے کہ وہ اور ان کی کابینہ اس عرصے کے دوران آئین اور قانون کی پابندی کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کریں گے تاکہ الیکشن کمیشن صوبے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا عمل شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں مکمل کر سکے۔عدالت نے لکھا ہے کہ حمزہ شہباز کی طرف سے یہ وعدہ پنجاب کے شہریوں کو ان کے حقوق کی حفاظت کے مترادف ہے کیوں کہ ان کو نمائندگی سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کو گورننس سے محروم کیا جا سکتا ہے یہ اقدامات کسی آئینی بحران اور ابہام سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاہم یہ اعتماد صرف 22 جون تک جاری رہے گا جب آئین کے آرٹیکل 130کی ذیلی شق چارکے تحت انتخاب (سیکنڈ پول) ہو جائے گا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ 27 مئی2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے اقلیتی ممبران کے حوالے سے جاری کیے گئے فیصلے کی تفصیلی وجوہات یہ فیصلہ جاری ہونے کے بعد ایک ہفتے میں جاری کرے گی ہائیکورٹ کے فیصلے کی تفصیلی وجوہات آنے کے بعد الیکشن کمیشن لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق فوری طور پر مخصوص نشستوں پر نامزد ارکان کے نام کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا،عدالت نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن سے متاثر ہوگا تو وہ مناسب فورم سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ 17 جولائی سنہ 2022 کو پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے نااہل ہونے پر خالی ہونے والی نشستوں پر الیکشن ہو رہے ہیں یہ انتخابات صاف شفاف اور آزادانہ ہونے چاہیں یہ عمل الیکشن کی تکمیل کی طرف سے جاری کیے گئے شیڈول کے مطابق ہوں گے ان کا رزلٹ بھی شیڈول کے مطابق ہی جاری کیا جائے گا اور ان ضمنی انتخابات کے حوالے سے اگر کوئی تنازعات سامنے آتے ہیں تو وہ بھی قانون کے مطابق متعلقہ فورمز پرنمٹائے جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن اور متعلقہ ریاستی حکام بشمول ممبران پارلیمان صوبائی اسمبلی وزرا اور ایڈوائزر یقینی بنائیں گے کہ تمام سیاسی جماعتیں انتخابی قانون قوانین پر عمل کر رہی ہیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے اس پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے عدالت نے ان انتخابات میں کسی بھی مداخلت،انتظامیہ کے دباؤکو روکنے کی بھی ہدایت کی ہے عدالت نے کہا ہے کہ لوکل انتظامیہ،الیکشن کمیشن سمیت کوئی بھی کرپٹ یا غیر قانونی پریکٹس میں شامل نہیں ہوگا ریاستی مشینری کا ضمنی انتخابات میں استعمال نہیں کیا جائے گا کسی کو ہراساں بھی نہیں کیا جائے گا اور مخالفین کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی استعمال نہیں کیا جائے گا صرف امن امان بحال کرنے کے علاوہ سرکاری مشینری کو مخالفین مخالف امیدواروں اور ان کے سپورٹرز کے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ لوکل انتظامیہ پولیس صوبائی الیکشن کمیشن سمیت کسی بھی ادارے میں ٹرانسفر یا پوسٹنگ نہیں ہو سکے گی تاکہ الیکشن ایکٹ 2017 اور ضابطہ اخلاق کے مطابق ضمنی انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی ان قوانین پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ عدالت نے لکھا ہے کہ جب تک ان حلقوں میں ضمنی انتخابات کا عمل پورا نہیں ہو جاتاضمنی انتخابات والے تمام حلقوں میں کوئی نئی ترقیاتی سکیم یا مالی ایلوکیشن ان حلقوں میں نہیں کی جائے گی اگر کوئی خلاف ورزی ہوگی تو الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ اور اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق مناسب قانونی اقدام اٹھانے کا مجاز ہوگا عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے واضح طور پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اسمبلی اجلاس کے حوالے سے تمام امور اور امن طریقے سے انجام دیے جائیں گے غیرجانبداری اور شفافیت کے ساتھ اسمبلی چیمبرز اور اس سے متعلقہ افسران کے دفاتر میں آئین و قانون اورقواعد کے مطابق امور چلائے جائیں گے عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول حمزہ شہباز شریف نے بالکل واضح انداز میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایک پر امن ماحول برقرار رکھا جائے گا اور نہ صرف انتخابات کے دوران اور امن ماحول برقرار رکھا جائے گا بلکہ جب تک اسمبلی میں انتخاب کے نتائج کا اعلان نہیں ہو جاتا صوبائی اسمبلی کی کارروائی کے دوران بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔فیصلے میں عدالت نے لکھا ہے کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ جو یقین دہانیاں عدالت میں کروائی گئی ہیں ان کو عزت دیتے ہوئے ان پر عمل کیا جائے گا عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس بات پر واضح انداز میں اتفاق کیا گیا ہے اور تمام جماعتوں کی طرف سے حلف دیا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کی یہ قانونی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ضمنی انتخابات میں اور اس کے بعد صوبائی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط اور پارلیمانی روایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اس فیصلے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف تمام سیاسی جماعتوں بلکہ ان کے وکلا کی طرف سے جو مثبت تعمیری رویہ اور کردار اپنایا وہ قابل ستائش ہے۔عدالت نے لکھا ہے کہ30جون کو لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کئے گئے متنازع حکم میں کچھ تبدیلی اور ترمیم کی جاتی ہے۔